‘4 سال سے اس دن کا انتظار تھا’، ڈیبیو ٹیسٹ میں سینچری بنانے والے کامران غلام نے مزید کیا کہا؟

منگل 15 اکتوبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں کیریئر کا پہلا میچ کھیل کر سینچری اسکور کرنے والے بیٹر کامران غلام نے کہا ہے کہ مجھے 4 سال سے اسی دن کا انتظار تھا۔

میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مجھے انتظار تھا کہ ٹیم میں کب موقع ملے گا، اور جب موقع ملا تو 100 فیصد کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیں ’اب تو بابر اعظم پکے پکے ٹیسٹ ٹیم سے آؤٹ ہو جائیں گے‘ کامران غلام کی سینچری پر صارفین کے تبصرے

انہوں نے کہاکہ مجھے چانس ملنے کا انتظار تھا، میں ڈومیسٹک میں ایسی ہی کرکٹ کھیلتا رہا ہوں۔

کامران غلام نے کہاکہ اپنے پہلے ہی میچ میں سینچری اسکور کرنے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، جب وکٹ پر آیا تو پریشر بہت تھا، لیکن اپنی طرف سے 100 فیصد دینے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوسرے میچ میں کامران غلام نے ایک چھکے اور 9 چوکوں کی مدد سے سینچری اسکور کی، اور 118 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں پاک انگلینڈ سیریز، ملتان ٹیسٹ میں پہلے روز کا کھیل ختم، قومی ٹیم نے 259 رنز بنالیے

پہلے ہی میچ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر کامران غلام کو سراہا جارہا ہے، سوشل میڈیا صارفین کہہ رہے ہیں کہ اب تو بابر اعظم پکے پکے ٹیسٹ ٹیم سے آؤٹ ہوجائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں