اے لیول کے طلبہ میڈیکل گراؤنڈ پر اردو لازمی کے امتحان سے مستثنیٰ

منگل 12 نومبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میڈیکل کا جواز پیش کرنے والے طلبہ کو اے لیول کے امتحانات میں اردو لازمی کے مضمون سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔

مقامی انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت ادارے انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اس سلسلے میں باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے کیونکہ نصاب میں مضامین کی شمولیت اور اخراج کا اختیار نیشنل کریکولم کونسل کے پاس ہے جسے تاحال اس فیصلے کا علم ہی نہیں ہے۔

قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی بھی امتحانی بورڈ لازمی مضمون سے کسی بھی طالب علم کو استثنیٰ نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی طالب علم میڈیکل بنیادوں پر کسی لازمی مضمون سے استثنیٰ مانگتا ہے تو متعلقہ بورڈ اسے متبادل مضمون کا امتحان دینے کا پابند کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے لیول کا پرچہ لیک ہوا، کیمبرج کی تصدیق

اس حوالے سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن میں انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کے ستمبر 30 کے منعقدہ 173 ویں اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں طالب علم کو اپنی طبی صورتحال کے ثبوت کے طور پر سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ/میڈیکل بورڈ کی دستاویزات فراہم کرنی ہوں گی۔ اسی نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ یا پھر طالب علم ایس ایس سی لیول (میٹرک) میں آفر ہونے والے اردو لازمی کے متبادل مضمون میں شریک ہوگا۔

واضح رہے کہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کی جانب سے او لیول کی سطح پر اردو لازمی کے میڈیکل بنیاد پر استثنیٰ سے متعلق جاری کردہ اس نوٹیفکیشن سے تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ آخر طالب علم صرف اردو لازمی کے مضمون سے ہی میڈیکل بنیادوں پر استثنیٰ کیوں مانگ رہے ہیں، میڈیکل بنیادوں پر تو کسی بھی لازمی مضمون سے استثنیٰ مانگا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: کوئٹہ کی منفرد اردو اور انوکھے محاورے کیا ہیں؟

اردو ہی کے ایک استاد کا کہنا تھا کہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن ایک ایسا نوٹیفکیشن بھی جاری کر سکتا تھا جس میں یا تو کسی مضمون کا ذکر ہی نہیں ہوتا یا پھر تمام ہی لازمی مضامین کا تذکرہ کر دیا جاتا تاہم نوٹیفکیشن سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ فیصلہ کچھ مواقعوں پر اہم افراد کو نوازنے کے لیے کیا گیا ہے اسے عمومی طور پر اردو لازمی کے مضمون سے جاری کیا گیا جو اب ایک مثال بننے جا رہی ہے اور میڈیکل گراؤنڈ کا جواز پیش کرکے اب اس سے ہر وہ طالب علم فائدہ حاصل کرنا چاہے گا جو اردو پڑھنا نہیں چاہتا۔

یہاں قابل ذکر امر یہ ہے کہ میڈیکل دستاویزات پیش کیے بغیر استثنیٰ کا نوٹیفکیشن خود اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ یہ ایک عمومی نوٹیفکیشن ہے جس میں میڈیکل کی بنیاد پر طلبہ کو اردو لازمی کے مضمون سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: رشید شاہد، اردو کے محسن خطاط

واضح رہے کہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کی اپنی ویب سائٹ پر پاکستان میں او لیول کے 8 لازمی مضامین میں انگریزی، اردو، اسلامیات، مطالعہ پاکستان اور ریاضی کو شامل کیا گیا ہے جبکہ وفاقی وزارت تعلیم کے 14 جون 2023 کے جاری ایک نوٹیفکیشن میں واضح طور پر نیشنل کریکولم آف پاکستان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گریڈ 9 سے 12 تک اردو، انگریزی، مطالعہ پاکستان، ریاضی، طبعیات، کیمیا، حیاتیات، کمپیوٹر سائنس، انٹرپینیوو شپ اور اسلامیات کو قومی نصاب کے طور پر منظور کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خدمت کا موقع ہر کسی کو نہیں ملتا، عہدہ اللہ کی امانت ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل کیوں منتقل کیا گیا؟ پی ٹی آئی کا ردعمل بھی سامنے آ گیا

حکومت نے عدالتی حکم کی روح کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ کرا دیا

’گووندا اور کومل شادی کرنے والے تھے‘، طلاق کیس واپس لینے کے بعد بیوی سنیتا آہوجا کا انکشاف

صومالیہ: ترک ہتھیار لے جانے والا کارگو جہاز قزاقوں نے ہائی جیک کرلیا، 6 بھارتی بھی سوار

ویڈیو

بلوچستان اور پاکستان کا حال اور مستقبل ایک ہے، ہمیشہ ایک رہے گا، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم

الیکٹرک بائیک یا اسکوٹر خریدیں، ایک لاکھ روپے حاصل کریں

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

کالم / تجزیہ

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک