بانی پی ٹی آئی کے خلاف توہین عدالت کی حکومتی درخواست پر عدالت نے کیا حکم دیا؟

منگل 10 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف توہین عدالت کی حکومتی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا حکومت اس کیس کو چلانا چاہتی ہے؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت سنجیدگی سے درخواست کی پیروی کرے گی۔ بانی پی ٹی آئی نے 25 مئی کے لانگ مارچ میں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی۔ اگر عدالت نے نوٹس کیا تو بانی پی ٹی آئی کو یہاں پیش بھی کرنا پڑے گا، اس حوالے سے ہدایات لے لیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے، آپ کیوں جذباتی ہو رہے ہیں، عدالت آپ کو راستہ دکھا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: آئینی بینچ آئندہ ہفتے سانحہ 9 مئی سمیت دیگر اہم مقدمات کی سماعت کرے گا

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ عدالت کا زبانی حکم بانی پی ٹی آئی تک نہیں پہنچ سکا تھا۔ موبائل سروس کی بندش کے باعث وکلا کا رابطہ نہیں ہوسکا تھا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ کیا بانی پی ٹی آئی کو نوٹس ہوا ہے؟ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ نوٹس موصول ہونے پر ہی جواب جمع کرایا ہے۔ آئینی بنچ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے