پارا چنار میں سڑک کی بندش اور ادویات کی قلت کے باعث 50 بچے جاں بحق

اتوار 22 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی قبائلی ضلع کرم کے علاقے پارا چنار میں متحارب قبائل کے درمیان مسلح تشدد کے بعد شہر کی طرف جانے والی سڑکوں کی بندش کی وجہ سے ادویات کی حالیہ قلت کی وجہ سے پارا چنار میں کم از کم 50 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ اشیائے خورونوش بھی نا پید ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پارا چنار میں ادویات کی قلت سے کتنے بچے جاں بحق ہوچکے؟ فیصل ایدھی نے بتا دیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق پارا چنار شہرمیں اشیائے خورونوش، ادویات، تیل، لکڑی، ایل پی جی کی بھی شدید قلت ہوگئی ہے۔

ادھر سرکاری حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ اتوار کو دوسری پرواز کے ذریعےپارا چنار سے 27 لوگوں کو ٹل کے علاقے میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ہیلی کاپٹرکے ذریعے ادویات کی فراہمی کا عمل بھی جاری ہے اور 7 پروازوں کے ذریعے 6 کروڑ روپے مالیت سے زیادہ کی ادویات کرم پہنچائی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ پارا چنار میں گزشتہ ماہ سے جاری جھڑپوں میں کم از کم 130 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ ہزاروں افراد علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس، کرم میں نجی بنکرز مکمل ختم کرنے کا فیصلہ

افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع کرم کے کچھ حصوں میں رہائشیوں نے خوراک اور ادویات کی قلت کی اطلاع دی تھی کیونکہ حکومت زرعی زمینوں پر دہائیوں سے جاری کشیدگی کے باعث قبائلیوں کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے میں تا حال ناکام ہے۔

پارا چنار کے ڈی ایچ کیو اسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ذوالفقار علی نے میڈیا کو بتایا کہ شہر میں 51 بچے ادویات کی کمی کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں۔

نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےپارا چنار میں سماجی کارکن فیصل ایدھی نے اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پارا چنار کے اسپتالوں میں 50 سے زیادہ بچے علاج نہ ہونے کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پارا چنار: خیبرپختونخوا حکومت کے وفد کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ

ایدھی فاؤنڈیشن کے عہدیدار سعد ایدھی نے مزید بتایا کہ گزشتہ 4 روز کے دوران کم از کم 45 افراد کو ایئر ایمبولینسوں کے ذریعے کرم سے صوبائی دارالحکومت کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

سعد ایدھی نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن خطے میں اپنی خدمات جاری رکھے گی لیکن شہر کے مسائل ایئر ایمبولینس کے ذریعے حل نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو آج رات تک راستوں کو کھولنا چاہیے تاکہ علاقے میں حالات کو معمول پر لایا جا سکے، انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 2،000 کلو گرام ادویات کی فراہمی علاقے میں پہنچائی گئی ہے۔

کرم سے ایم پی اے علی ہادی عرفانی نے بھی بتایا کہ ’غیر ضروری فیصلوں ‘ سے پریشان ہونے کے بجائے حکومت کو فوری طور پر نقل و حمل کے راستے کھولنے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی