سال نو کا جشن، دبئی میں موجود محنت کشوں کے لیے قیمتی انعامات جیتنے کا موقع

ہفتہ 28 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیا سال دبئی میں موجود محنتوں کے لیے خوشخبری کے ساتھ طلوع ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گزشتہ ڈیڑھ سال میں کتنے پاکستانیوں کو یو اے ای کے ورک ویزے جاری ہوئے؟

میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی حکام نے اس بار سال نو کی خوشیوں میں وہاں موجود محنت کشوں کو بھی شریک کرنے کا فیصلہ ہے۔

سال نو کے آغاز پر حکام کی جانب سے محنتوں کشوں کی قیمتی تحائف دینے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دبئی حکام نے نئے سال کی آمد پر محنت کشوں کے لیے خصوصی مراعات اور انعامات کا اعلان کیا ہے۔

جدید دبئی کی تعمیر میںنمحنت کشوں کے کردار کے اعتراف کے طور پر ان محنت کشوں کو قیمتی تحائف دیے جائیں گے، ان کا کہنا ہے کہ محنت کش ہمارے پارنٹر ہیں ان کے ساتھ مل کر نئے سال کی خوشیاں منائیں گے۔

ی بھی پڑھیں:سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے پر یو اے ای میں پاکستانیوں کو عمر قید کی سزا

محنت کشوں کو ملنے والے تحائف میں ان کے خاندانوں کے لیے سونے کے زیورات کے علاوہ 2 نئی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔

محنت کشں کو 30 فری ٹکٹس دیے جائیں گے، جبکہ 5 لاکھ درہم کے مختلف انعامات بھی محنت کشوں کو ملیں گے۔

جب کہ سال نو پر 2 دن محنت کشوں کے لیے ہائی اسپیڈ مفت انٹرنیٹ دستیاب ہوگا۔

محنت کشوں کو یہ انعامات القوز، محسنہ، جبل عل میں منعقد ہونے والی نئے سال کی تقریبات جیتنا کا موقع ملے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں