گرینڈ جرگہ: کرم میں قیام امن کے لیے فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

اتوار 29 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرم میں قیام امن کے لیے گرینڈ جرگے میں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ سڑکوں اور راستوں کو کھلوانے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے جب کہ 6 قبائل رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اپیکس کمیٹی کے فیصلے کے مطابق معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں۔

کرم میں مستقل امن و امان کے قیام، ضلع بھر سے ہتھیاروں کے خاتمے، فریقین کے مورچوں کو مسمار کرانے اور مین شاہراہ سمیت تمام سڑکوں اور راستوں کو کھلوانے اور محفوظ بنانے کے لیے حکومت کے زیر سایہ کوہاٹ میں گرینڈ جرگہ چند دن وقفے کے بعد دوبارہ ہوا۔

فریقین کے درمیان ایپیکس کمیٹی کے فیصلے رو سے 14 نکات میں سے 12 پر فیصلہ ہوچکا ہے تاہم اسلحہ کو حکومت کے پاس کروانے، سڑکوں اور راستوں کو کھلوانے پر ہفتہ کی شام تک ڈیڈ لاک موجود تھا۔

مزید پڑھیں: ضلع کرم کو درپیش بحران کے خاتمے کا امکان، متحارب فریقین بھاری ہتھیار جمع کروانے پر رضامند

اہل سنت کے 6 قبائل کا مؤقف ہے کہ ایپیکس کمیٹی میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ سب سے پہلے فریقین سے ہتھیار اکٹھے کیے جائیں۔ پھر ضلع کرم میں تمام بنکرز اور مورچے مسمار کیے جائیں اور اس کے بعد تمام راستے کھول دیے جائیں۔ تاہم طوری عمائدین کا کہنا ہے کہ پہلے راستے کھول دیے جائیں۔ اس کے بعد مرحلہ وار مورچوں کی مسماری اور اسلحہ اکھٹا کرنا شروع کیا جائے۔

جرگہ ذرائع کے مطابق اہلسنت کے 6 قبائل کے عمائدین طوری قبیلے کے بات سے متفق نہیں۔ طوری قبیلے نے اپنے مؤقف کے مطابق دستخط کیے ہیں۔ لیکن اہل سنت کے 6 قبائل کے عمائدین اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے اور دستخط کرنے سے انکار کیا۔ ہفتہ کی رات تک ڈیڈلاک ختم نہ ہونے پر آج (اتوار) دوبارہ جرگہ ہوا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کوہاٹ گرینڈ جرگے میں مشران نے دستخط کر دیے ہیں، ایک فریق کے چند افراد نے دستخط کیے جبکہ کمشنر کوہاٹ آفس میں جرگہ حتمی فیصلے کا اعلان کرے گا۔ پارا چنار پشاور مرکزی شاہراہ اور اپر کرم کے راستے اڑھائی ماہ سے بند اور اپرکرم کو ہر قسم کی سپلائی معطل ہے۔

مزید پڑھیں: کرم میں امن کے امکانات روشن، متحارب فریقین تحریری امن معاہدے تک پہنچ گئے

تحصیل چیئرمین آغا مزمل کا کہنا ہے کہ ادویات کی قلت کے باعث علاج نہ ملنے سے 123 بچوں کا انتقال حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ آغا مزمل کا کہنا ہے کہ کرم میں اشیائے ضروریہ کا فقدان ہے، ہوٹلز، پبلک ٹرانسپورٹ اور کاروباری مراکز 3 ہفتوں سے بند پڑے ہیں۔

پاراچنار کی ابتر صورتحال کے خلاف کرم پریس کلب پر 9 دن سے دھرنا جاری ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں پانچ مقامات پر بھی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔ کراچی میں بھی پارا چنار کی صورتحال پر مختلف علاقوں میں دھرنے دیے جا رہے ہیں جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے اور دھرنوں کے باعث سڑکیں بند ہونے  کی وجہ سے ٹریفک پولیس نے متبادل روٹس بتا دیے ہیں۔ تاہم کرم میں متحارف فریقین کے مابین معاہدے طے پا جانے کے ساتھ ہی کراچی میں مختلف مقامات پر دیے گئے دھرنے ختم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

پاکستان اور امریکا کا دہشتگردی کے خلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

خواتین نے مینگرووز کے جنگلات بحال کرکے دارالحکومت کو سمندر کے خطرات سے بچانا شروع کردیا

افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا، عالمی برادری مؤثر اقدامات کرے، پاکستان

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ