مراکش کے قریب ہونے والے کشتی حادثے میں پاکستانی تارکین وطن کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے حکومت نے آج اعلیٰ سطحی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو آج اسلام آباد سے مراکش روانہ ہوگئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، تحقیقاتی ٹیم بھیجنے کا فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کیا، اس ٹیم میں ایف آئی اے، وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور انٹیلجنس بیورو کی طرف سے ایک ایک افسرشامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے:میڈرڈ کشتی سانحہ: حادثاتی موت یا قتل؟، دلخراش تفصیلات سامنے آگئیں
رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم مراکش کے شہر رباط اور دخلہ کا دورہ کرکے حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں سے ملاقات کرے گی اور پاکستانیوں پر مبینہ تشدد اور ہلاکت کی بھی تحقیقات کرے گی۔ یہ ٹیم ایک تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
گزشتہ روز مغربی افریقہ سے کشتی کے ذریعے غیرقانونی طور پر اسپین پہنچنے کی کوشش کرنے والے کم از کم 50 تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے جن میں 44 افراد کا تعلق پاکستان سے تھا۔
اس کشتی میں 66 پاکستانیوں سمیت 86 افراد شامل تھے جن میں سے 36 افراد کو بچالیا گیا۔
بعد میں سامنے آنے والی تفصیلات میں بتایا گیا تھا کہ ان تارکین وطن کو انسانی سمگلرز نے مزید رقم کا مطالبہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر تشدد کرکے قتل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے:کشتی حادثات میں ملوث ملزمان کیخلاف کریک ڈاؤن، 144 گرفتار
اس سے قبل یونان کشتی حادثوں کی تحقیقات کے لیے وزیر اعظم ہاؤس کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر ایف آئی کے 65 افسران و ملازمین بلیک لسٹ قرار دے دیے گئے تھے اور انسانی سمگلنگ میں معاونت پر 30 سے زائد اہلکاروں کو نوکریوں سے برخاست کیا گیا تھا۔












