خیبرپختونخوا: تعلیم کے میدان میں پی ٹی آئی کی کارکردگی، طلبہ و اساتذہ کیا کہتے ہیں؟

منگل 28 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبرپختونخوا کی بیشتر جامعات میں مستقل وائس چانسلرز نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ و طالبات مشکلات کا شکار ہیں جبکہ ناقدین اس کا ذمے دار پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران صوبے میں تعلیم کی بہتری کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات کرنے سے قاصر رہی ہے۔

جامعہ پشاور میں ایم فل کے طالب علم تقویم الحق نے وی نیوز کو بتایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ 12 سالوں کے دوران نوجوان سے تبدیلی اور امید کے نام پر ووٹ لیا تاہم یونیورسٹی میں زیر تعلیم نوجوان طبقہ حکومت سے مایوس دکھائی دے رہا ہے۔

اساتذہ کی رائے

پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسویسی ایشن کے رکن اور فزکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عزیر نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف نے تعلیم، صحت اور انصاف کا نعرہ لگا کر عوام سے ووٹ لیا لیکن بدقسمتی سے صوبے میں تیسری بار حکومت ملنے کے باوجود وہ تعلیم کے میدان میں کوئی بہتری نہیں لاسکی۔

صوبائی حکومت کا مؤقف

دوسری جانب صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی نے وی نیوز کو بتایا کہ جامعات میں وائس چانسلرز کی جگہ پرو وائس چانسلرز اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں غیر ملکی وفود کی آمد، 11 اور 12 اپریل کو خصوصی ٹریفک پلان نافذ، ریڈ زون مکمل بند

امریکا ایران جنگ بندی میں کردار، عثمان بزدار بھی حکومتی کوششوں کے معترف

وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وزیر خزانہ کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار

پاکستان کے معاشی اہداف خطرے میں، عالمی بینک نے خبردار کردیا

افغانستان میں داعش خراسان کا پھیلاؤ، ملک میں ایک بار پھر دہشتگردی کے لیے سازگار ماحول بن گیا

ویڈیو

پاکستان کے لیے تاریخی لمحہ، وزیراعظم شہباز شریف کو دنیا بھر سے کالز

ایران امریکا جنگ بندی: پاک فوج اور وزیراعظم کے حق میں یوم تشکر ریلی

پاکستان کی نئی عالمی پہچان، تنہائی سے مرکز امن تک

کالم / تجزیہ

اسلام آباد میں آخری اوور

اسلام آباد مذاکرات: لبنان جنگ سب بگاڑ سکتی ہے

امن مذاکرات: توقعات، امکانات اور خدشات