امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 30 ہزار تارکین وطن کو گوانتاناموبے جیل بھیجنے کے لیے تیار

جمعرات 30 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ پینٹاگون اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمے کو گوانتانامو بے میں 30 ہزار تارکین وطن کے لیے حراستی مرکز قائم کرنے کا حکم دیں گے۔

گوانتانامو بے، کیوبا، میں امریکی بحریہ کے اڈے میں پہلے سے ہی ایک تارکین وطن کی سہولت موجود ہے، جو کہ غیر ملکی دہشت گردی کے مشتبہ افراد کے لیے اعلیٰ حفاظتی امریکی جیل سے الگ ہے-

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی 22 ریاستوں نے صدر ٹرمپ کا کون سا حکم عدالت میں چیلنج کردیا؟

جسے کئی دہائیوں سے مختلف مواقع پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جس میں ہیٹی اور کیوبا کے باشندوں کو سمندر سے ریسکیو کرکے وہاں گرفتار رکھنا بھی شامل ہے۔

صدر ٹرمپ کے سرحدی امور کے مشیر ٹام ہومن نے اس اعلان کے بعد کہا کہ انتظامیہ  گوانتانامو بے میں پہلے سے موجود سہولت کو وسعت دے گی جسے امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ ایجنسی چلائے گی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ حکم نامہ، پاکستان سے امریکا جانے کے منتظر ہزاروں افغانوں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت محکمہ دفاع اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو گوانتاناموبے میں 30 ہزار تارکین وطن کے لیے حراستی مرکز تیار کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس سہولت کا استعمال بدترین مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے غیر قانونی غیر ملکیوں کو حراست میں لینے کے لیے کیا جائے گا، جو امریکی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مرد اور عورت، امریکا میں 2 ہی جنس ہوں گی، ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم نامہ جاری کردیا

’ان میں سے کچھ اتنے برے ہیں کہ ہم ان کی گرفتاری کے لیے ان کے ملکوں پر بھروسہ بھی نہیں کرسکتے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ واپس آئیں، اس لیے ہم انہیں گوانتانامو بھیج رہے ہیں، یہ ہماری استعداد کو فوری طور پر دوگنا کر دے گا۔‘

اس کے فوراً بعد، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک میمورنڈم پر دستخط کیے، جس میں تارکین وطن کی تعداد کا ذکر نہیں تھا لیکن توسیعی سہولت میں ’اضافی حراستی جگہ‘ کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا کی ریاست بن جائیں، ٹیرف ختم کردیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو پیشکش

بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹام ہومن نے کہا کہ اس مرکز کو ’بدترین سے بدترین‘ تارکین وطن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم کے مطابق اس سہولت کے لیے درکار رقم کے معاملے پر انتظامیہ اس ضمن میں کانگریس میں مفاہمت اور فنڈز مختص کرنے والوں کے ساتھ کام کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان ٹرمپ کے گرویدہ، امریکا سے دوستی کی خواہش کا اظہار

گوانتاناموبے میں حراستی مرکز 2002 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملوں کے بعد مشتبہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو حراست میں رکھنے کے لیے قائم کیا تھا، جیل میں اب 15 قیدی رہ گئے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دو ڈیموکریٹک پیشرو، بارک اوباما اور جو بائیڈن نے گوانتانامو جیل کو بند کرنے کی کوشش کی لیکن وہ صرف یہاں کے قیدیوں کی تعداد کم کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ صدر ٹرمپ نے اسے جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

مزید پڑھیں: غیر قانونی تارکین وطن کی امریکا بدری، ڈونلڈ ٹرمپ کا فوج کی مدد لینے کا فیصلہ

انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے طویل عرصے سے گوانتانامو جیل کی مخالفت کی جاتی رہی ہے کیونکہ یہاں نہ صرف گرفتار شدگان کو غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جاتا ہے بلکہ پوچھ گچھ کے سخت طریقے جو تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔

گوانتانامو جیل کو ’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘ کی ابتدائی زیادتیوں کی علامت بھی قرار دیا گیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کی اعلان کردہ تارکین وطن کے لیے حراستی مرکز ایک علیحدہ سہولت ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایلون مسک کو امریکا کے لیے اہم کیوں قرار دیا؟

کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے صدر ٹرمپ کے منصوبے کو ’بربریت کا عمل‘ قرار دیا، پناہ گزینوں کے حامی گروپوں نے گوانتانامو مہاجر مرکز کو بند کرنے اور کانگریس سے وہاں مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ وہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کو کولوراڈو میں بکلی اسپیس فورس بیس پر تارکین وطن کو حراست میں لینے کی اجازت دیدے گی۔

یہ فیصلہ ملک سے باہر تارکین وطن کی امریکی فوج کی جانب سے ملک بدری کی پروازوں اور میکسیکو کے ساتھ امریکی سرحد پر 1,600 سے زیادہ فعال فوجیوں کی تعیناتی کے بعد سامنے آیا ہے، جنہیں صدر ٹرمپ کے گزشتہ ہفتے امیگریشن پر ہنگامی اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

شاندانہ گلزار کے بیان پر علی امین گنڈاپور کا سخت ردعمل، مبینہ لیکڈ آڈیو سامنے آگئی

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں