خضدار سے لڑکی کا اغوا اور لواحقین کا احتجاج، معاملہ کیا ہے؟

ہفتہ 8 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے شہزاد سٹی میں 17 سالہ عاصمہ بی بی کے اغوا کے خلاف لواحقین کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری ہے۔ لواحقین نے احتجاج کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو خضدار کے قریب ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کردیا ہے جس کہ وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

مغوی بچی کے اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ 6 تاریخ کی شب ان کے گھر پر مسلح افراد نے حملہ کیا جن کے پاس جدید اسلحہ تھا اور بندوق کے زور پر ان کی 17 سالہ بیٹی عاصمہ بی بی کو اغوا کرکے لے گئے۔

اہلخانہ نے مزید بتایا کہ دراصل عاصمہ بی بی کو اغوا کرنے کے پیچھے با اثر قبائلی شخصیت کا ہاتھ ہے کیونکہ ہم نے قبائلی شخصیت کو رشتہ دینے سے انکار کیا تھا جس کے رد عمل میں انہوں نے ہماری بیٹی کو اغوا کیا۔

مزید پڑھیں: قومی پرچم کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

خضدار میں اغوا ہونے والی خاتون کے واقعے پر سخت ترین ایکشن لیا جا رہا ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خضدار میں اغوا ہونے والی خاتون کے واقعے پر سخت ترین ایکشن لیا جا رہا ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے  ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ایکس پوسٹ میں مزید کہا کہ  ذاتی طور پر اس سانحے کی تفتیش کی نگرانی کر رہا ہوں۔ آئی جی پولیس کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ملوث ملزمان کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ حکومت مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، ظالم انجام کو پہنچے گا۔

مزید پڑھیں: مظفرآباد: خواتین سمیت 8 افراد نے نوجوان کو اغوا کیوں کیا؟

دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ خضدار میں مغویہ عاصمہ کی بازیابی کے لیے پولیس اور لیویز کی کارروائیاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں انجیرہ میں چھاپہ مار کر ایک مشکوک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ مغویہ کے بھائی عبدالحفیظ جتک کی مدعیت میں مرکزی ملزم ظہور احمد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید چھاپے مار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم ظہور احمد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف تعذیرات پاکستان کی دفعات 365، 354 اور 397 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ملزمان کو فوری گرفتار کرکے مغویہ کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائیں۔

شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر پولیس اور لیویز کو مکمل تعاون فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ ملزمان جلد گرفتار ہوں اور مغویہ کو بازیاب کرایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار