جرمن قونصل جنرل کو کوئٹہ آنے سے کیوں روکا؟ گورنر بلوچستان نے سب بتادیا

منگل 18 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ روز گورنر ہاؤس بلوچستان میں محکمہ توانائی، نجی تنظیم اور یونیورسٹی کے اشتراک سے قابل تجدید توانائی پروگرام کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی جس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندو خیل سمیت اعلی سول حکام نے شرکت کی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل صوبائی حکومت پر برس پڑے۔ ’افسوس ہے کہ ہم نے جرمن قونصل جنرل کو سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ آنے کی اجازت نہیں دی، یہاں صورتحال اتنی بھی ابتر نہیں کہ ہم انہیں تحفظ فراہم نہ کرسکیں۔‘

یہ بھی پڑھیں:  بلوچستان کا پہلا تاریخی پولیس میوزیم کوئٹہ میں قائم

گورنر جعفر مندوخیل کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے پاس سیکیورٹی نہیں تھی تو ہم انہیں اپنی بلٹ پروف گاڑیاں بھیج دیتے، جرمنی بلوچستان میں 3 ملین یورو  دے رہا ہے اور ہم انہیں سیکیورٹی نہیں دے سکتے، جرمن قونصل جنرل کو سیکورٹی خدشات کی بنا پر روکنا نالائقی ہے۔

’جرمنی یہاں پر سرمایہ کاری کررہا ہے ہمیں تو انہیں ویلکم کرنا چاہیے، اس حوالے سے میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بات کروں گا۔‘

مزید پڑھیں: بلوچستان میں خشک سردی، کوئٹہ کا درجہ حرارت منفی 6 تک گر گیا

اس معاملے پر ابھی تک حکومت بلوچستان کا موقف سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ گورنر بلوچستان اس سے قبل بھی صوبائی حکومت پر تنقید کے تیر برسا چکے ہیں، جب انہوں نے بلوچستان میں انفرا اسٹرکچر کے لیے پیکج کی فراہمی اور فنڈز کا استعمال وفاق کو خود کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ’اگر فنڈز ہمارے حوالے کیے گئے تو ہمارے لوگ اسکا صحیح استعمال نہیں کریں گے۔‘

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق گورنر بلوچستان کافی عرصے سے صوبائی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں جسے حکومت میں بیٹھی 2 بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے تناظر میں دیکھے بنا چارہ نہیں۔

مزید پڑھیں: کیا کوئٹہ کا پانی پینے کے لیے غیر موزوں ہے؟

شیخ جعفر مندوخیل نہ صرف گورنر بلوچستان کے عہدے پر فائز ہیں بلکہ وہ مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر بھی ہیں اس دوہرے کردار کو نبھاتے ہوئے ان کی جانب سے حکومت پر تنقید اس بات کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ مسلم لیگ ن اور بالخصوص گورنر بلوچستان حکومتی کارکردگی سے خوش دکھائی نہیں دے رہے۔

تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت صوبے میں گزشتہ ایک سال سے موجود ہے، اس دوران ن لیگ کے رکن صوبائی اسمبلی ڈھائی ڈھائی سالہ حکومتی فارمولے کا راگ الاپ رہے ہیں، جبکہ بلوچستان سے پیپلز پارٹی کے سینیٹرعبدالقدوس بزنجو ایسے کسی بھی فارمولے کی تصدیق نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں قیمتی نگینوں کے کاروبار کا انوکھا طریقہ

ایسے میں صوبائی حکمراں اتحاد کی دونوں اہم جماعتوں کے درمیان صوبے میں حکمرانی کے ضمن میں معاملات کی نوعیت کیا ہوگی یہ آئندہ ایک سال تک مزید واضح ہوجائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

انڈر 18 ہاکی ایشیا کپ: پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیت لیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی راہ پر گامزن، حقیقت کھل کر سامنے آگئی

ایکشن کمیٹی سے اب بھی مذاکرات کے لیے تیار، قانون توڑا گیا تو کارروائی ہوگی، وزیراعظم آزاد کشمیر

غزہ جنگ بندی: حماس کے قاہرہ میں اہم مذاکرات شروع، دوسرے مرحلے پر مشاورت جاری

ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات پورے کردیے، سڑکوں پر آنا مسائل کا حل نہیں، طارق فضل چوہدری

ویڈیو

گلگت بلتستان میں کس کی حکومت بن رہی ہے؟ آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے والوں کو سخت پیغام

گلگت بلتستان میں حکومت کے بدلے 28ویں آئینی ترمیم؟ الیکشن کون جیت رہا ہے؟

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے ناگزیر قرار، اقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف

کالم / تجزیہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ

28 ویں ترمیم تو آنی ہی آنی ہے