وادی کوئٹہ میں ایک جانب جہاں زیر زمین پانی کی سطح 1000 سے 1200 فٹ تک جا پہنچی ہے وہیں حاصل کردہ پانی بھی پینے کے قابل نہیں رہا۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کے شعبہ انوائرمینٹل سائنسز کے استاد تیمور شاہ درانی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کوئٹہ کے مختلف علاقوں سے زیر زمین پانی کے نمونے حاصل کیے جن میں فلورائیڈ کی مقدار غیر متوازن پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں قیمتی نگینوں کے کاروبار کا انوکھا طریقہ
تیمور شاہ درانی نے کہا کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں پر پانی میں فلورائیڈ کی مقدار کم ہے جبکہ بعض علاقوں میں اس کی مقدار زیادہ ہے لہٰذا پتا یہ چلا ہے کہ شہر کا 52 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: کوئٹہ کی ایسی مارکیٹ جہاں پرندے ہول سیل ریٹ پر ملتے ہیں
انہوں نے بتایا کہ بارش کے بعد پہاڑوں سے بہہ کر پانی چھوٹے چھوٹے ندی نالوں کے ذریعے زمین میں جذب ہوتا ہے اور پھر اس پانی کو بورنگ کے ذریعے نکالا جاتا ہے اور سیدھے گھروں تک بھیج دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ درمیان میں اس پانی کو کہیں بھی ٹریٹ نہیں کیا جاتا لہٰذا فلورائیڈ کی غیر متوازن مقدار ہونے کے سب یہ پانی استعمال کرنے والے افراد کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جسم میں فلورائیڈ کی کمی یا زیادتی دانتوں اور جوڑوں کے امراض میں مبتلا کرسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: ’ہر بار دوائیاں باہر سے لانا پڑتی ہیں‘، سول اسپتال کوئٹہ میں عوام ادویات سے محروم کیوں؟
تیمور شاہ درانی نے بتایا کہ اگر حکومت اس پانی کو باقاعدہ صاف کر کے اس میں مناسب معدنیات شامل کرنے کے بعد عوام کو فراہم کرے تو کوئٹہ کا پانی پینے کے لیے ملک بھر میں سب سے بہتر ثابت ہوگا۔












