نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں اوورسیز پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا تھا اس کے پاس نگراں حکومت آگئی اورمعیشت کی صورتحال ابتر ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ملک 38 فیصد مہنگائی اور پالیسی ریٹ 22 فیصد تک پہنچ گیا، ایسے میں کون کاروبار کرسکتا تھا، جن کے پاس پیسہ تھا انہوں نے کام کے بجائے بینک میں پیسہ رکھنے کو ترجیح دی۔
اسحاق ڈارنے کہا کہ معیشت کے ساتھ ساتھ سفارتی طور پر بھی ہم الگ ہوچکے تھے، بیرون ملک سے کوئی دورے پر نہیں آتا تھا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہم اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک سال میں استحکام لاچکے ہیں اور اب آگے کی طرف سفر شروع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اعلیٰ سطح اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے
ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ 12 فیصد پر آچکا ہے، ایکسپورٹ میں اضافہ ہورہا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے پاکستان کی دوبارہ تعریف کررہے ہیں۔
انہوں نے ترسیلات زر، برآمدات اور مجموعی اقتصادی کارکردگی میں نمایاں بہتری کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تجارتی مواقع بڑھانے کے لیے اصلاحات متعارف کروا رہی ہے۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشتگردی پچھلی حکومت سے ورثے میں ملی، ہم نے اپنی پچھلی حکومت میں دہشتگردی کا خاتمہ کیا تھا، پاکستان ایک محفوظ ملک بن گیا تھا لیکن اب 2 سالوں میں دہشتگردی میں دوبارہ اضافہ ہوا۔
انہوں نے گزشتہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم پالیسیز بناتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ اس سے ملک کا فائدہ ہوگا یا نہیں، ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم نے کیا غلطی کی، جب ہم نے دہشتگردوں کے خلاف جنگ شروع کی تو وہ بھاگ کر دوسرے ملک میں پناہ لی لیکن اگلی حکومت 35 سے 40 ہزار لوگوں کو واپس لے آئی۔
یہ بھی پڑھیے: برطانوی وزیراعظم کی خصوصی مندوب یاسمین قریشی کی اسحاق ڈار سے ملاقات
اس موقع پر قونصلیٹ جنرل آف پاکستان نے بھی خطاب کیا اور شرکاء کو پاکستان سنگل ونڈو کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد تجارتی عمل کو آسان بنانا اور علاقائی اقتصادی انضمام کا فروغ ہے۔
انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ ایس آئی ایف سی ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایک کلیدی اقدام ہے۔
اس موقع پر امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ، اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب منیر اکرم، اضافی مستقل مندوب عاصم افتخار اور نیویارک میں قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی بھی موجود تھے۔














