سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا ترامیم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا

پیر 24 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ میں ترامیم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کردیا۔

سپریم کورٹ بار کے زیر اہتمام پیکا ایکٹ 2025 کے حوالے سے مشاورتی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہار جمہوریت کی بنیاد ہے اور اسے کسی بھی قسم کی جبر و زبردستی سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پیکا ایکٹ میں ترمیم کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت کا حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ’میڈیا انڈر اٹیک‘ کے عنوان سے مشاورتی اجلاس کی صدارت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا نے کی۔ جبکہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے صدر صحافی رہنما افضل بٹ، سینیئر صحافی حامد میر، مظہر عباس بھی مشاورتی اجلاس میں شریک تھے۔

متن میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ 2025 کو ناقص قانون سازی قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں اور اس کی مذمت کی جاتی ہے، پیکا ایکٹ آئین کے آرٹیکل 19 خلاف ورزی ہے۔

متن کے مطابق پیکا ایکٹ 2025 ان حقوق کی خلاف ورزی ہے جو اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی میثاق برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 19 میں تسلیم کیے گئے ہیں۔

متن میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور آزاد صحافت پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔

متن کے مطابق اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ متعدد شقوں کی تعریف مبہم ہے اور انہیں واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

’جھوٹا اور جعلی جیسے الفاظ کی واضح تعریف موجود نہیں، جبکہ کوئی بھی فرد کا مفہوم وسیع ہے اور اسے صرف متاثرہ فرد یا فریق تک محدود ہونا چاہیے۔‘

اجلاس نے کہا ہے کہ وقوعہ کی جگہ کی تعریف مبہم ہے، جس کی وجہ سے ایک ہی واقعے پر مختلف مقامات پر متعدد ایف آئی آرز درج کی جا سکتی ہیں، ٹریبونلز کو مکمل طور پر انتظامی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے۔

متن کے مطابق اجلاس میں میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کرتے ہوئے آزاد صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ میڈیا کی آزادی پر کسی بھی قسم کی قدغن جمہوری اقدار اور شفافیت کے لیے خطرہ ہے، یہ اجلاس اس بات پر زور دیتا ہے کہ سائبر کرائم اور میڈیا سے متعلق قوانین کو آئینی تحفظات، جمہوری اصولوں اور بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں:وفاقی وزیرقانون نے پیکا ترمیمی بل پر نظرثانی کا عندیہ دے دیا

اجلاس میں ڈیجیٹل اسپیس میں بڑھتی ہوئی سنسرشپ، سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن اور اظہار رائے پر پابندی کے لیے مواد کی ریگولیشن پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ ہتک عزت کے قوانین اور شہری حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بجلی کے ٹیرف میں تبدیلی کا بوجھ متوسط اور نچلے طبقے پر نہیں پڑنا چاہیے، آئی ایم ایف

عمران خان کا چھپ کر علاج کروانا قابل قبول نہیں، علیمہ خان پھٹ پڑیں

ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کر کے ریال کو گرا دیا گیا، امریکی وزیر خزانہ کا اعتراف

راجن پور اور کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا صفایا، 500 سے زائد مجرموں نے ہتھیار ڈال دیے، مریم نواز

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

ویڈیو

’ویلنٹائن ڈے کو اپنی اقدار کے مطابق منا کر نکاح کو آسان بنانا ہوگا‘

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش کے عام انتخابات، ’جین زی‘ اور جماعت اسلامی

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟