مریم نواز کی ایک برس کی کارکردگی پر اشتہار، ’جن اخبارات نے اشتہار چھاپا ان پر پیکا نہیں لگتا؟‘

منگل 25 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شمار ان سیاستدانوں میں ہوتا ہے جو کسی نہ کسی حوالے سے خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں اور ان کے مخالفین انہیں تنقید کا نشانہ بناتے نظرآتے ہیں پھر چاہے وہ سیاسی سرگرمیاں ہوں یا ان کی ڈریسنگ۔

حال ہی مریم نواز ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنیں جب پنجاب حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان کے مختلف اخبارات کے فرنٹ پیج پر ایک اشتہار شائع ہوا جس میں خبریں نہیں تھیں بلکہ صرف مریم نواز کے بیانات اور منصوبوں کے اعلانات تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کرکٹ پر اشتہار: “اب مریم کے ہاتھوں 92 کا ورلڈکپ جتوانا رہ گیا ہے‘‘

اخبارات کا فرنٹ پیج دیکھنے میں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ خبریں ہیں مگر اصل میں یہ ایک اشتہار تھا جس میں ہر طرف مریم نواز ہی نظر آئیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اشتہار میں لکھا گیا ہے کہ ’جذبہ خدمت ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں‘۔  اور پورے صفحے پر مریم نواز کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات لگائے گئے ہیں۔

یہ اشتہار سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو پنجاب حکومت اور مریم نواز کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا گیا، معروف پاکستانی اداکار، کامیڈین و میزبان شفاعت علی نے لکھا کہ کیا اشتہار کو خبروں کی طرح چھاپنا جعلی خبریں پھیلانے کے مترادف نہیں؟ آج جن اخبارات نے فرنٹ پیج پر اس اشتہار کو چھاپا ہے ان پہ پیکا نہیں لگتا ؟

ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اخبار نہیں، پورا اشتہار ہے صحافت پہ کیسا یہ زوال ہے۔

صحافی نجم ولی خان نے لکھا کہ اگر آپ کو یہ لگے کہ کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد کے قارئین کو صرف یہ ’خبریں‘ پڑھانا صحافت نہیں تو آپ کو بتانا ہے کہ یہ حکومت پنجاب کا وزیراعلی مریم نواز کی ایک برس کی کارکردگی پر خبروں کی صورت اشتہار ہے۔ نیچے جاری کرنے والوں کا نام، لوگو، نعرہ اور ریلیز آرڈر نمبر بھی موجود ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے یہ دلچسپ آئیڈیا ہے کہ آج پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کے حامی بھی ملک بھر میں جو بھی اخبار اٹھائیں گے، وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے ہی کارنامے پڑھیں گے۔

ارم زعیم لکھتی ہیں کہ ان عقل سے عاری لوگوں کو بتاؤ جب ترقی ہوتی ہے تو دکھتی ہے، اس کے لیے اشتہار اور میڈیا مینجمنٹ نہیں کرنی پڑتی۔

ایک ایکس صارف نے لکھا کہ پورے صفحے پر آج کی خبریں نہیں ہیں بلکہ پورے ایک سال کی کارکردگی پر مبنی اشتہار ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما مسرت چیمہ نے کہا ہے کہ چند پیسے اضافی کمانے کے لیے اشتہارات کو خبروں کی طرح چھاپ دیا جاتا ہے اور پھر حیران ہو کے پوچھتے ہیں کہ اب عوام اخبار کیوں نہیں پڑھتے۔

رضوان غلزئی نے لکھا کہ عوام مزید ٹیکس دیں تاکہ ان کے پیسے سے میڈیا مالکان کو اربوں روپے کے اشتہارات دے کر سب اچھا دکھایا جائے۔

شاکر محمود اعوان لکھتے ہیں کہ صحافت برائے فروخت، صحافت کا جنازہ۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘