پنجاب اسمبلی نے محفوظ شہید نہر کی تعمیر سے سبز انقلاب کی نوید سنا دی

اتوار 16 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اراکین پنجاب اسمبلی نے کہا ہے کہ چولستان کے بنجر علاقوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے محفوظ شہید کینال کی تعمیر احسن اقدام ہے۔ یہ اقدام گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندوں نے محفوظ شہید کینال کی تعمیر کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی پنجاب واصف مظہر راں کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ نہرکے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، یہ نہر دریائے ستلج سے نکل رہی ہے۔ اس نہر کی تعمیر سے بھارت کی آبی جارحیت کو روکنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس نہر کی تعمیر سے جنوبی پنجاب اور چولستان کے علاقوں میں سبز انقلاب آئے گا۔

واصف مظہر راں کا کہنا تھا کہ پانی کے ذرائع کو بہتر استعمال میں لا کر چولستان، جنوبی پنجاب کے عوام کا مستقبل بہتر بنایا جائیگا۔ فصلوں اور زمینوں کی صحیح آبیاری سے کسانوں کی حالت میں بہتری آئے گی جس سے پنجاب اور پاکستان بھی بہتر ہوگا۔ میں صرف پنجاب کی بات نہیں کرتا، ایسی نہریں سندھ اور بلوچستان سے بھی نکلنی چاہیں تاکہ وہاں بھی سبز انقلاب آئے۔ اس سبز انقلاب سے عوام کو سستی خوراک ملے گی، زرعی اجناس کی ایکسپورٹ ہوں گی جس سے ہمیں وسیع زرمبادلہ ملے گا۔

مزید پڑھیں: نہریں بنانے کے معاملے پر وفاقی حکومت اور صوبہ سندھ آمنے سامنے کیوں ہیں؟

ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب میاں کامران عبداللہ مڑل کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ میں پنجاب کے بھائیوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو نہریں نکالی جا رہی ہیں اس سے نئے رقبے آباد ہوں گے۔ اس سے قبل نہریں نہ ہونے کی وجہ سے یہ سارا پانی سمندر برد ہو کر ضائع ہو جاتا تھا۔ ان نہروں سے تھل اور چولستان کا بنجر رقبہ آباد ہوگا جس سے ہماری معیشت بہتر ہو گی۔

میاں کامران عبداللہ مڑل کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بھی نہریں نکالی جائیں تاکہ نئے رقبے آباد ہوں۔ جنوبی پنجاب میں پہلے بھی پانی کی شدید قلت رہی ہے نئی نہروں سے ہمارے بھائیوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ نہروں کے حوالے سے غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اس کے لیے دریائے ستلج کا پانی استعمال ہوگا۔ نئی نہریں بننی چاہئے تاکہ پانی ضائع نہ ہواور پاکستان کی معاشی ترقی میں اضافہ ہو۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے زرعی مستقبل کے لیے محفوظ شہید کینال کی تعمیر ناگزیر ہے، زرعی ماہرین

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی میاں غوث محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اس وقت ایشو نئی نہریں ہیں، پنجاب کی بنجر زمینوں کو گرین پاکستان کے نام پر آباد کیا جا رہا ہے۔ ان نہروں سے وہ پانی جو سمندر برد ہو جاتا ہے کاشتکاری کے لیے کام آجائے تو فائدہ ہوگا۔ ہم زرعی ملک ہوتے ہوئے کبھی چاول، کبھی چینی اور کبھی گندم امپورٹ کرتے ہیں۔

میاں غوث محمد نے کہا کہ ہم ڈالر دے کر یہ تمام زرعی جناس امپورٹ کرتے ہیں نہروں کے نظام سے ڈالر کی بھی بچت آئے گی۔ نہروں کے نئے نظام سے بنجر زمیں آباد ہونگی اور لوگوں کو روزگار بھی ملے گا۔ میرا حلقہ چولستان ہے جہاں قریباً لاکھ ڈیڑھ لاکھ آبادی کو بھی ان نہروں سے فائدہ ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہریں نکالی جانی چاہئیں بجائے اس کے یہ پانی سمندر برد ہو کر ضائع ہو جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں امن ، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

آئی سی سی کا پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی یا فور نیشن سیریز کرانے پر غور شروع

نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی محاذ آرائی نہیں، قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے، چوہدری شجاعت حسین

دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ناگزیر، افغان شہریوں کے ویزے بحال کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پاکستان

ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی، وزیر داخلہ بلوچستان

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

پنجاب کو ہمسایہ ملک سے زیادہ پڑوسی صوبوں سے دہشتگردی کا خطرہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

1948 سے قائم کراچی کی دکان، کچوری اور سموسے کا ذائقہ نسل در نسل برقرار

کالم / تجزیہ

اُچ شریف کے آثار اور یادیں

مسلم سائنس کا قتل اور ملزم امام غزالی

وہ خط جو کبھی پوسٹ نہیں کیا گیا