ملزم ارمغان کے والد کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ پولیس نے بتادیا

جمعرات 20 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایس ایس پی اے وی سی سی انیل حیدر کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ عامر قتل کے ملزم ارمغان کے والد ملزم کامران اصغر قریشی کو مصطفی عامر قتل کیس میں گرفتار نہیں کیا گیا، کامران قریشی کو اسلحے  اور پولیس مقابلے کے پرانے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اہم پیشرفت، ارمغان کے اعترافی بیان کی ویڈیو ریکارڈ

انیل حیدر کے مطابق ملزم کامران قریشی کے خلاف ایک نائن ایم ایم پستول اور منشیات کی برآمدگی کے نئے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ارمغان سے پولیس مقابلے کے بعد گھر سے ملنے والا تمام اسلحہ کامران قریشی نے خریدا تھا۔

ایس ایس پی انیل حیدر کا کہنا ہے کہ اسلحے کی خریداری سے متعلق شواہد بھی پولیس کو مل گئے ہیں، ملزم کے موبائل فون سے اسلحے کی خریداری کے وقت کی وڈیوز بھی ملی ہیں۔

ایس ایس پی کے مطابق کامران قریشی سے ارمغان کے غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے بھی تفتیش کی جائے گی، ملزم کامران قریشی نے ارمغان سے پولیس مقابلے کے بعد ملنے والے کسی بھی اسلحے کا لائسنس پیش نہیں  کیا ہے۔

ایس پی اے وی سی سی  انیل حیدر  کا کہنا ہے کہ کامران قریشی کے قبضے سے ملنے والا نائن ایم ایم پستول بھی غیر قانونی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

کے پی ٹی اور رومانیہ کی بندرگاہ قسطنطہ کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہتک عزت مقدمہ: علی ظفر کی سیشن عدالت میں کامیابی، میشا شفیع کا لاہور ہائیکورٹ جانے کا فیصلہ

ایران معاہدے پر راضی نہ ہوا تو جنگ مزید شدت سے جاری رکھی جائے گی، امریکی وزیر دفاع کی دھمکی

کوئٹہ: بجلی چوری اور مالی بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائیاں، اعداد و شمار جاری

ویڈیو

گلگت بلتستان کے گاؤں سے وطن سے محبت اور آزادی کی قدر کا پیغام

پاکستان میں مہنگے فیول نے کیب ڈرائیورز اور مسافروں کو بھی مشکل میں ڈال دیا

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار بیجنگ پہنچ گئے، ایران پر بات کریں گے: چین

کالم / تجزیہ

پاکستان کا فیصلہ کیا ہوگا؟

ہم بہت خوش نصیب ہیں، ہم بہت بدنصیب ہیں

ایک حادثہ جس نے میڈیا کی بلوغت کا ثبوت دیا