ہیومنائیڈ روبوٹس کس طرح انقلاب لارہے ہیں؟

جمعرات 20 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اوپولو نامی ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے کام میں انسانوں کی مدد کر کے انقلاب برپا کردیا ہے۔

5 فٹ 8 انچ  لمبے  روبوٹ نے  پہلی بار عوامی سطح پر حقیقی  انسان کی طرح کام کا عملی مظاہرہ کیا ہے،  روبوٹ نے  مکمل طور پر خود مختاری کے ساتھ گاڑی کے انجن کے حصے جوڑے۔

اس روبوٹ کا بنیادی مقصد انجن کے حصے جوڑ کر حقیقی انسان کے حوالے کرنا تھا، جس نے یہ کام کامیابی سے مکمل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت میں نیا انقلاب: مکمل زندگی کی ساتھی روبوٹک گرل آریا

اوپولو کی بانی کمپنی اپٹرونک کے چیف ایگزیکٹیو جیف کارڈینس کہتے ہیں، ’ہمارے لیے واقعی  یہ ایک بڑا دن ہے، ہم عوام کے لیے روبوٹ کو براہ راست کام کرتے دیکھ کر پرجوش ہیں۔ ‘

آٹو موٹرز کمپنی مرسڈیز بینز نے اپٹرونک  کمپنی کے ساتھ ملٹی ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، کمپنی برلن اور ہنگری میں اپنی فیکٹریوں میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی آزمائش کررہی ہے۔

سرمایہ کار اور صنعتی فرمیں،خاص طور پر کار ساز جو مینوفیکچرنگ میں روبوٹس کے استعمال کا طویل تجربہ رکھتے ہیں، انسان نما روبوٹس کی ترقی کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی کے طلبا کی نئی ڈیوائس سے روبوٹک سرجری مزید آسان ہو گئی

اوپولو روبوٹ برلن-مارینفیلڈ پلانٹ میں مرسڈیز کی جدید ترین کاروں کو ویلڈ کرتے ہیں، بولٹ  لگاتے ہیں اور ان کا معائنہ کرتے ہیں۔

جرمن کار ساز کمپنی کے پروڈکشن اور سپلائی چین مینجمنٹ کے سربراہ جارگ برزر کہتے ہیں، ’ایک بڑا فائدہ ہے، ایک ہیومنائیڈ روبوٹ چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاسکتا ہے، یہ پرانی چیزوں کو اپگریڈ بھی کرسکتا ہے۔‘

یہ روبوٹ انسانوں کی طرح ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ، وہ اوزار چلا سکتا ہے اور انسانوں کی طرح کام کی جگہوں پر کام کرسکتا ہے۔

اوپولو 25 کلو سے زیادہ وزن اٹھا سکتا ہے اور  بار بار کام انجام دے سکتا ہے جو کہ ہیومنائیڈ روبوٹ ڈویلپرز کے الفاظ میں انسانوں کے لیے بہت خطرناک کام ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی روبوٹ کی تیار کردہ پینٹنگ 10لاکھ ڈالرز میں فروخت

ٹرائل کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ انسان نما روبوٹس کون سے کام مفید طریقے سے کرسکتے ہیں اور آیا یہ مشین لرننگ اور مہارت کو بہتر بنانے میں مدد کرتے ہیں ہیں یا نہیں۔

مسٹر برزر نے کہا ’ یہ جانچنا بھی بہت ضروری ہے کہ کس طرح ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو کام کرنے والے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پروڈکشن چلانے میں ضم کیا جاسکتا ہے۔‘

اپٹرونک کے چیف ایگزیکٹو مسٹر کارڈیناس کا کہنا ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ روبوٹ اس کے گھر میں آئے اور لانڈری سمیت وہ تمام کام کرے جو وہ نہیں کرنا چاہتا، یہ بہت جلد ہونے والا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ سرمایہ کار روبوٹ کے زیر تسلط مستقبل پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک حالیہ پیشنگوئی کے مطابق اگلے 8 سالوں میں ہیومنائڈ مشینوں کی مارکیٹ میں 20 گنا اضافہ ہوگا، 2050 تک روبوٹک مشینون کی تعداد دسیوں ملین ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: شاپنگ مال میں خریداری کرتے ’ٹیسلا روبوٹس‘ سوشل میڈیا پر وائرل

اپٹرونک کمپنی کا مقصد حقیقی ہے جو روبوٹ فیکٹری جیسے  کنٹرول شدہ ماحول سے باہر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،  تاہم یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ یہ ہیومنائیڈ روبوٹ ہماری ملازمتیں کب چوری کریں گے یا کیا وہ بدمعاش بن کر ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے؟ آنے والا وقت ہی اس سوال کا جواب دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’یہ خود کو جان بوجھ کر مظلوم ظاہر کرتے ہیں‘، امریکی گلوکار کی امریکی صیہونیوں پر شدید تنقید

پاکستان نے یو اے ای کے 3.45 ارب ڈالر کے ڈپازٹس مکمل واپس کر دیے

برطانیہ اور فرانس کی آبنائے ہرمز سیکیورٹی منصوبے پر پیشرفت، 44 ممالک لندن مذاکرات میں شریک

ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: حکومت پنجاب کی 50 ہزار ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع

بھارت کیجانب سے منشیات نیٹ ورک کو کیمیکل فراہمی بے نقاب، عالمی تشویش بڑھ گئی

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار