برطانوی فوج کا گیریژن، جو اب ’گھوسٹ ٹاؤن‘ بن چکا ہے

منگل 25 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک برطانوی گیریژن کبھی جو کبھی 12 ہزار برطانوی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کا گھر تھا، اب ایک ’گھوسٹ ٹاؤن‘ میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں اب صرف ہرن اور گلہریاں ہی رہتی ہیں۔

ایک وسیع شہر جو کبھی ہزاروں برطانوی فوجی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی میزبانی کرتا تھا، اب آہستہ آہستہ جنگل میں تبدیل ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گائے کی سہیلیاں، OMG کتنا پرانا؟ جانیے دلچسپ و عجیب حقائق

 دراصل یہ’گھوسٹ ٹاؤن‘ برطانیہ میں نہیں ہے بلکہ جرمنی میں واقع ہے، جس میں چار بیڈ روم والے وسیع و عریض مکانات، ایک اپارٹمنٹ بلاک، کھیلوں کی سہولیات، اور یہاں تک کہ اس کا اپنا پیٹرول اسٹیشن بھی شامل ہے، یہاں کبھی برطانوی فوجی اہلکار اور ان کے خاندان آباد تھے، اس کا نام جے ایچ کیو رہیندالین تھا۔

یہ ہیڈ کوارٹر سرد جنگ کے دوران 1952 میں تعمیر کیا گیا تھا،جس کے دروازے 2013 میں بند ہوگئے تھے۔

یہ قصبہ اب ہرن اور سرخ گلہری جیسی جنگلی حیات کے لیے ایک پناہ گاہ بن گیا ہے، 376 ہیکٹر وائلڈ لینڈ میں  سبزہ اتنا گھنا ہے کہ موسم گرما میں، گھر پودوں میں غائب ہو جاتے ہیں۔ کم سے کم توڑ پھوڑ کے باوجود، یہ قصبہ ایک طویل عرصے سے گزرے ہوئے دور کا ایک سنیپ شاٹ پیش کرتا ہے۔

دسمبر 2013 میں یہ ٹاؤن برطانوی فوج کی طرف سے سرکاری طور پر جرمن حکومت کے حوالے کیا گیا تھا، اور ابتدائی طور پر پناہ کے متلاشیوں کے لیے مکانات کی تعمیر نو کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی، تاہم اب 10 سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اس ٹاؤن کی تمیر نو نہیں کی گئی، یہ ٹاؤن اب گھوسٹ ٹاؤن میں بدل چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں