سپریم کورٹ: اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے اور ٹرانسفر ججوں کو کام سے روکنے کی استدعا مسترد

پیر 14 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سمیت دیگر ٹرانسفر ہونے والے ججز کو کام سے روکنے اور نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مسترد کردی۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے تبادلے اور سنیارٹی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیں ججز تبادلہ کیس میں جسٹس نعیم اختر افغان نے اہم سوالات اٹھادیے

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیے اور کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹرانسفر ہونے والے ججز کے معاملے کو آرٹیکل 175 کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔

دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی ٹرانسفر آرٹیکل 200 کے تحت ہوئی، بہتر ہوگا کہ آپ دلائل کا آغاز بھی یہیں سے کریں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ جب کسی جج کی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کی جاتی ہے تو اس سے قبل اس کی مرضی معلوم کی جاتی ہے، جبکہ جس ہائیکورٹ سے ٹرانسفر کرنی ہو اس کے چیف جسٹس کی بھی رضامندی معلوم کی جاتی ہے۔

انہوں نے منیر اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیاکہ آپ کو ججز کی ٹرانسفر پر اعتراض ہے یا سنیارٹی پر؟ جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ہمیں دونوں پر اعتراض ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ کی بات کا مطلب ہے کہ نئے الفاظ آئین میں شامل کیے جائیں۔ انہوں نے آرٹیکل 62 ایف کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ آئین میں نئے الفاظ شامل کرکے نااہلی تاحیات کردی گئی، اس فیصلے پر شدید تنقید ہوئی جسے نظرثانی میں تبدیل کیا گیا۔

دوران سماعت جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ جب ہائیکورٹ میں ججوں کی آسامیاں خالی تھیں تو ٹرانسفر کے بجائے ان ہی صوبوں سے نئے ججوں کو تعینات کیوں نہ کیا گیا؟ کیا حلف میں ذکر ہوتا ہے کہ جج کون سی ہائیکورٹ کا حلف اٹھا رہا ہے؟ جس پر وکیل منیر اے ملک نے جواب دیا کہ حلف کے ڈرافٹ میں بالکل صوبے کا ذکر ہوتا ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا جج اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کی عدالت کا حلف اٹھاتا ہے۔

عدالت نے ہائیکورٹ ججز کی نئی سنیارٹی لسٹ معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی، جبکہ ٹرانسفر ہونے والے ججوں کو کام سے روکنے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججز ٹرانسفر کی حمایت کیوں کی؟

عدالت نے ٹرانسفر ہونے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 17 اپریل تک ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟