اسلام آباد میں 3 روزہ اوورسیز کنونشن کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس کنونشن میں دنیا بھر سے 1500 کے قریب اوورسیز پاکستانی شریک ہیں۔ کنونشن کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہنا ہے۔
کنونشن میں شریک ہونے والوں کا کہنا ہے کہ یہ کنونشن اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک شاندار موقع ہے کہ وہ دیگر تمام اوورسیز پاکستانیوں سے نہ صرف تعلقات قائم کریں بلکہ اپنے مسائل کو مل جل کر اجاگر کریں۔
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کنونشن کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسا کنونشن پہلی بار ہو رہا ہے۔ یہ ایک بہت اچھا اقدام ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو حکومت ریڑھ کی ہڈی سمجھتی ہے اور اسی طرح ہمارا استقبال بھی کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی تمام تر مشکلات کو حل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک بیٹھ کر ہمارے لیے بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ اپنے مسائل حکومت تک پہنچائیں۔ مگر اس کنونشن کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کو موقع ملا ہے کہ وہ یہاں اپنے تمام تر تحفظات کو کھل کر بیان کر سکیں۔
واضح رہے کہ کنونشن کے پہلے روز وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین کا کنونشن سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ کنونشن کا مقصد سمندرپار رہنے والے پاکستانیوں کی خدمات کوسرا ہنا ہے، اوورسیزپاکستانیوں کے مسائل کا حل میری وزارت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے، پہلی بار ترسیلات زر 4ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں۔