چین کے ساتھ اسپیس ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

منگل 22 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اسپیس ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے چین کی اسپیس ٹیکنالوجی کمپنی گلیکسی اسپیس کے وفد نے چیئرمین زو منگ کی قیادت میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اسپیس ٹیکنالوجی کے شعبے کو انتہائی اہمیت دے رہا ہے اور چین پاکستان کا قابلِ اعتماد دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف: چین کا امریکا کے خوشامدی ممالک کو سزا دینے کا اعلان

گلیکسی اسپیس کے وفد نے پاکستان کی اسپیس ٹیکنالوجی انڈسٹری میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی، جبکہ وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام اور سپارکو کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کو انتہائی مفید قرار دیا۔وفد نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

ملاقات میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزا فاطمہ، مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ اور متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

8000 سال قدیم مہر گڑھ تہذیب کو نئی زندگی، امریکی تعاون سے بلوچستان کے تاریخی عجائب گھر کی بحالی مکمل

پاکستانی فلم ’میرا لیاری‘ کا عالمی اعزاز، بیلاروس کے معروف فلمی میلے میں اسپیشل جیوری ایوارڈ جیت لیا

پاکستان ترکیہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، ترک سفیر و ماہرین کا بین الاقوامی ویبینار میں خطاب

نئی آٹو پالیسی منظور، گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی اور برآمدات 6 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں، 4 نئے کھلاڑی شامل،3  پلیئرز پہلی بار قسمت آزمائیں گے

ویڈیو

سُرتال اکیڈمی کے بچوں کی بھارت سمیت دنیا بھر میں دھوم

اسموگ کے خاتمے کے لیے لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا دائرہ وسیع، لاک ڈاؤن کا کوئی منصوبہ نہیں

ترقی کے سفر میں لیہ کب شامل ہوگا؟ شہری بڑے ترقیاتی منصوبوں کے منتظر

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟