پاکستان میں جاپان کے سفیر اکاماتسو سوچی نے اپنی رہائشگاہ پر پاک جاپان انسانی وسائل کے اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک تقریب منعقد کی جس میں تقریباً 70 شخصیات نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان نے پاکستان میں بچوں کی تعلیم کے لیے کتنی امداد کا اعلان کیا ہے؟
مذکورہ مہمان جاپان میں روزگار کے مواقع اور پاکستانیوں کی ترقی اور سہولت کاری میں سرگرم عمل ہیں۔ شرکا میں چوہدری سالک حسین وزیر اوورسیز پاکستانیز اینڈ ہیومن وسائل کی ترقی، شزہ فاطمہ وزیر اطلاعات ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن، محمد عون ثقلین، وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل ترقی اور دیگر سرکردہ جاپانیوں اور پاکستانیوں کے نمائندے شامل تھے۔ اس فورم کا فوکس جاپان میں آئی ٹی، تعمیرات، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں ہنر مند پاکستانی لیبر کی بڑھتی مانگ پر تھا۔
اپنی استقبالیہ تقریر میں سفیر اکاماتسو نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ جاپان میں پاکستانی پیشہ ور افراد کی کامیابی ہے دوطرفہ تعلقات کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے اور دونوں جاپانی اور پاکستانی سفارت خانے اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مسقتبل میں جاپان میں ہنر مند پاکستانیوں کے لیے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
مزید پڑھیے: جاپانی کمپنی کراچی سمیت 3 ایئرپورٹس کے لیے ایکسپلوسو ڈیٹیکشن سسٹم فراہم کرے گی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سالک حسین نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی پیشہ ور افراد کو جاپانی کارپوریٹ سیکٹر میں رسائی میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے اپریل میں ٹوکیو میں ہونے والے جاپان آئی ٹی ویک میں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی کامیابی پر روشنی ڈالی جہاں 15 کمپنیوں نے 6 لاکھ ڈالر کی مالیت کے معاہدے حاصل کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مزید روڈ شوز کا انعقاد ہونا چاہیے۔
جاپان میں اور ڈیمانڈ سپلائی میچنگ پلیٹ فارم کی ترقی پر زور دیا۔
اس موقعے پرJICA, JETRO, Plus W سے تعلق رکھنے والے مقررین اور انگریزی و جاپانی روانی کے ساتھ بولنے والے
پاکستانی یونیورسٹی کا طالب علموں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: جاپان پاکستان کو مختلف منصوبوں کے لیے کتنی امداد دے گا؟
تقریب کا اختتام پاکستان اور جاپان کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پائیدار اور طویل مدتی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کے ساتھ ہوا۔













