کیا شوگر کے شکار مردوں کے لیے ہائی بلڈ پریشر جان لیوا ہوسکتا ہے؟

اتوار 4 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جرنل PLOS میڈیسن میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق طبی دیکھ بھال ترک کرنے کے بعد مردوں کے ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور ایڈز سے مرنے کا امکان خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کیا ڈارک چاکلیٹ کھانے سے شوگر کا مرض کنٹرول ہوسکتا ہے؟

محققین کے مطابق نتائج سے پتا چلتا ہے کہ مردوں کو احتیاطی نگہداشت اور صحت کی دیکھ بھال میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کے لیے مزید توجہ کی ضرورت ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن ڈنمارک میں صحت عامہ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر سینیئر محقق انجیلا چانگ کے مطابق میڈیسن کو یہ بھی قبول کرنے کی ضرورت ہے کہ جب صحت کی دیکھ بھال کے رہنما خطوط اور علاج کی بات آتی ہے تو جنسی اختلافات ہوتے ہیں۔

انجیلا چانگ کا کہنا ہے مردوں میں تمباکو نوشی کی بلند شرح سے لے کر خواتین میں موٹاپے کے زیادہ پھیلاؤ تک ہر مقام پر جنسی اختلافات برقرار رہتے ہیں۔

محققین نے مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق کو ٹریک کرنے کے لیے عالمی صحت کی دیکھ بھال کے ڈیٹا بیس سے جمع کردہ ڈیٹا کا استعمال کیا۔

محققین کے مطابق صحت کے مسئلے میں کردار ادا کرنے والے خطرے کے عنصر سے پتا چلتا ہے کہ اگر مناسب طریقے سے یا بالکل بھی علاج نہ کیا جائے تو یہ مسئلہ موت تک پہنچ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کراچی تجاوزات کیس، وفاقی آئینی عدالت نے سعید غنی کے خلاف توہین عدالت درخواست سمیت سماعت مقرر کر دی

پیداواری صلاحیت کے باوجود پاکستان میں بجلی کی شدید کمی برقرار

دن میں زیادہ اور بار بار سونا صحت کے لیے نقصان دہ، موت کی جانب پیشقدمی قرار

پی ایس ایل میچ کے دوران عامر سہیل کے کراچی سے متعلق ریمارکس پر ہنگامہ، سوشل میڈیا پر سخت تنقید

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر خدشات

ویڈیو

کرکٹ اسٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس، پشاور کے شہری کیاکہتے ہیں؟

پاکستان کی کوششوں سے امن قائم ہو گا، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

سعودی عرب سے 3 بلین ڈالرز ملنے پر پاکستانی کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

عالمی دن پر کتاب سے مکالمہ

جنگ اور جنگ بندی کے مابین مرتب کیے 9 نتائج

لاہور پر ’مغل اعظم‘ کی یلغار