لال قلعے کا قبضہ دلوایا جائے، مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ عدالت پہنچ گئی

منگل 6 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پڑپوتے کی بیوہ سلطانہ بیگم نے بھارتی سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی کے لال قلعے کا قبضہ انہیں دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں بھارت: مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کا مقبرہ گرانے کے مطالبے پر ہنگامہ آرائی، ناگ پور میں کرفیو نافذ

عدالت نے سلطانہ بیگم کی درخواست پر مؤقف اختیار کیاکہ اگر ہم آپ کو لال قلعے کا قبضہ دے دیتے ہیں تو پھر آپ کی جانب سے آگرہ اور فتح پور سیکری کے قلعے بھی مانگے جائیں گے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو کھنا نے سلطانہ بیگم کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاکہ لال قلعے کا قبضہ نہیں دیا جا سکتا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سلطانہ بیگم اس سے قبل دہلی ہائیکورٹ سے بھی رجوع کرچکی ہیں، اور ہائیکورٹ نے دو بار ان کی درخواست مسترد کی۔

ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اب 150 برس گزر چکے ہیں، اس لیے یہ درخواست قابل سماعت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں اورنگزیب کا مقبرہ مسمار کرنے کا فیصلہ، مہاراشٹر میں مذہبی منافرت کی آگ بھڑک اٹھی

واضح رہے کہ لال قلعہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں واقعہ ہے، جس کی ایک تاریخی حیثیت ہے، یہ مغلیہ حکمرانوں کی رہائشگاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چینی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں