پاک بھارت تنازع: اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں کیا ہوا؟

منگل 6 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک بھارت تنازع کے حوالے سے اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے اہم اجلاس میں سلامتی کونسل اراکین کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس انٹیلیجنس اطلاعات ہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے۔

ترجمان دفترِخارجہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایجنڈا آئٹم ’پاک بھارت سوال‘ پر گہرا غور و خوض کیا۔ اجلاس میں سکیورٹی کے ضِمن میں خطّے کی بگڑتی ہوئی صورتحال، پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی شدید کیفیت اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس پاکستان کی درخواست پر بُلایا گیا جس کا مقصد بھارت کی جانب سے یکطرفہ اقدامات اور اشتعال انگیز عوامی بیانات کا جائزہ لینا تھا جس کی وجہ سے پاک بھارت فوجی ٹکراؤ کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے اور جس سے خطے اور دنیا کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

سلامتی کونسل اراکین نے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور فوری طور پر تناؤ کم کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ مسئلے کو فوجی کارروائی کے بجائے سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کیا جائے۔

مزید پڑھیں: پہلگام حملہ: بھارت کی سفارتی تنہائی، پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر تسلیم

سلامتی کونسل کے کئی اراکین نے زور دیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعے کی اصل وجہ جموں کشمیر کا دیرینہ مسئلہ ہے اور اِسے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل کیے جانے کی ضرورت ہے۔ سلامتی کونسل کے کئی اراکین نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ضمن میں بین الاقوامی ذمے داریوں اور قوانین کے احترام پر زور دیا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے عاصم افتخار احمد نے کونسل کو بھارت کی جانب سے جارحانہ فوجی مؤقف کے ساتھ ساتھ تمام یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ بھارت کی جانب سے 23 اپریل کو اعلان کیے گئے اقدامات خطرناک اور غیر منصفانہ ہیں اور ان کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

پاکستان نے باضابطہ طور پر پہلگام حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور کہا کہ بھارت کی جانب سے بغیر شواہد بے بنیاد الزامات عائد کیے گئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کے واقعات کو بنیاد بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور فوجی جارحیت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

سلامتی کونسل کو بتایا گیا کہ ماضی میں بھارت اس طرح کے واقعات کو بنیاد بنا کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کو دبانے اُسے غیر قانونی جدوجہد قرار دینے اور اپنی دہشتگرد کارروائیاں چھپانے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

خضدار: رشتے سے انکار پر خاندان کے 3 افراد قتل، اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رپورٹ طلب کرلی

3 گنا قیمت، جعلی اور ایکسپائر اشیا، سلمیٰ بٹ کا موٹروے ریسٹ ایریاز پر موجود مارٹس کے خلاف سخت ایکشن

پاکستان اور صومالیہ میں بحری دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ