رواں سال کا پہلا چاند گرہن مئی میں کب لگے گا؟

منگل 2 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سال 2023 کا پہلا قلمی چاند گرہن مئی میں ہوگا جس کے اوقات کے حوالے سے محکمہ موسمیات نے رپورٹ جاری کردی ہے۔

إمحکمہ موسمیات کے مطابق چاند گرہن 5 اور 6 مئی کی درمیانی شب کو ہوگا جس کا عروج ارت کے 11 بجکر 23 منٹ پر ہوگا۔

سال کے پہلے چاند گرہن کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جمعہ 5 مئی کی شب 10 بجکر 14 منٹ پر چاند کو گرہن لگے گا اور اس کا دورانیہ دو گھنٹے سے زائد ہوگا۔ گرہن 6 مئی 12 بجکر 32 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ چاند گرہن پاکستان میں بامشکل دیکھا جائے گا تاہم لاہور میں مطلع صاف ہونے پر قلمی چاند گرہن دیکھے جانے کا امکان ہے۔

’یہ چاند گرہن زیادہ تر ان مقامات پر نظر آسکتا ہے جہاں اس وقت چاند افق سے اوپر ہو۔ ان مقامات میں ایشیا کے بیشتر، آسٹریلیا، افریقہ، بحرالکاہل، بحر اوقیانوس، بحر ہند اور انٹارکٹیکا کے علاقے شامل ہیں۔‘

اس سے قبل محکمہ موسمیات کی ایک رپورٹ میں رواں سال 2 سورج اور 2 چاند گرہن ہونے کا بتایا گیا تھا جن میں سے پہلا سورج گرہن 20 اپریل کو ہوچکا ہے۔

چاند گرہن کیا ہوتا ہے؟

یہ چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جاتی ہے جس سے چاند پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اور چاند نظر نہیں آتا۔

سادہ الفاظ میں چاند گرہن کے دوران ہمیں زمین کا سایہ چاند پر پڑتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح چاند معمول سے 10 فیصد کم روشن دکھائی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں