نسل پرستی کا بھوت

منگل 13 مئی 2025
author image

عباس سیال، سڈنی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

’نسلی تعصب دم توڑ رہا ہے، سوال یہ ہے کہ نسل پرست لوگ اپنے جنازے کو کتنا مہنگا بنائیں گے؟‘۔ مارٹن لوتھر کنگ کا یہ جملہ دنیا کی تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔

ہم ایک ایسے ترقی یافتہ دور میں جی رہے ہیں کہ جہاں انسان نے خلا کی وسعتیں ناپ لیں، جینیاتی کوڈ پڑھ لیے اور معلومات کو انگلیوں کی پوروں پر لا کھڑا کیا، مگر افسوس کہ ترقی کے اس دور میں بھی ہمارے دلوں کے اندر رنگ و نسل کی بنیاد پر نفرتوں کے کانٹے پیوست ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ جس ’نسلی امتیاز‘ کی بنیاد پر تعصب اور خونریزی برپا کی گئی، وہ ایک جھوٹ، فریب اور سراب نکلی کہ جس کی نہ کوئی سائنسی حقیقت ثابت ہوسکی اور نہ ہی فطری تقسیم۔

سویڈن کے مشہور سائنسدان ’کارل لینیئس‘ نے پہلی مرتبہ کرہ ارض پر پائی جانے والی جاندار مخلوق (انسان اور جانور) کی درجہ بندی کرنے کے لیے اُسے مختلف گروہوں میں تقسیم کیا اور وہی پیمانہ لاگو کیا جو وہ نباتات کی درجہ بندی میں استعمال کیا کرتا تھا، یعنی پھول اور پودے کی ظاہری ساخت، رنگت، خوبصورتی اور لمبائی وغیر۔ اسی بنیاد پر اُس نے سفید فام انسان کو ’کو کیثوئڈ(Caucasoid)، افریقہ کے باسی کو ’نیگروئڈ‘ (Negroid) اورمشرقی ایشیائی باشندے کو ’مونگولوئڈ‘(Mongoloid) اقسام میں تقسیم کیا۔

مزید پڑھیں: بھارتی میڈیا اور ’را‘ سے منسلک اکاؤنٹس سے پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈا جاری

انسانوں کو مختلف نسلوں میں بانٹنے کا تصور دینے والا لینیئس خود اس بات کا قائل تھا کہ شکل و شباہت کی بنیاد پر کی گئی انسانی درجہ بندی محض سہولت کی حد تک ہے اور اس کی فطرت میں کوئی بنیاد نہیں۔

لینیئس کی تحقیق کے مطابق بدھ مت کے مقدس ترین پودے (lotus) کنول کے پودے کا تعلق (water lily) آبی نرگس کے خاندان سے ہے، مگر ڈی این اے کے تقابلی تجزیے کے مطابق وہ لندن میں پیدا ہونے والے (plane tree) چنار کے درخت سے تعلق رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف شکل و صورت اور جغرافیائی بنیادوں پر کی گئی نسلی تفریق نے دقیانوسی اور نسل پرستانہ سوچ کو پروان چڑھایا وہیں جدید جینیات نے اس قسم کی درجہ بندیوں کو باطل قرار دیا اور بتایا کہ تمام بنی نوع ایک ہی جدِ امجد کی اولاد ہیں اور ان کا ڈی این اے 99.9% ایک جیسا ہے۔

اگر ہم اسے اسلامی نقطہ نظر سے دیکھیں تو خالق کائنات کا ارشاد ہے:’بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔‘ اور پھر اس پیغام کی تصدیق اُس کے منتخب کردہ بندے نے کچھ یوں کی: ’کسی عربی کو عجمی پر، گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، مگر تقویٰ کے ساتھ۔’ یہ پیغام فقط مذہبی عقیدہ نہیں تھا بلکہ آنے والے وقتوں میں انسانیت کا عالمی منشور بنا۔

مزید پڑھیں: بھارت کو جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، پاکستان نے سلامتی کونسل کو آگاہ کردیا

ییل یونیورسٹی کے پروفیسر جوناتھن مارکس کا کہنا تھا کہ ’انسانی نسل کی کوئی حیاتیاتی حقیقت نہیں ہوتی، بلکہ انسان اس طرح سے پیدا ہی نہیں ہوا کہ اسے نسلوں میں بانٹا جا سکے۔‘ انگریز مورخ ایڈورڈ آگسٹس فری مین نے آگے بڑھ کر نسل پرستی کو سائنسی اور تاریخی بنیادوں پر چیلنج کرتے ہوئے یورپ میں قائم نسلی تفخر، خون یا خالص قوم کے تصور پر قائم کی گئی (خونی رشتے داریوں) کے جھوٹے تصور کو یکسر رد کر دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ کوئی بھی قوم رنگ و نسل اور خون کی بنیادوں پر قائم تصور کے نتیجے میں وجود میں نہیں آتی بلکہ انسانی ارتقا کے پیچھے ایک تاریخی، ثقافتی، سیاسی، تعلیمی ترقی اور اقدارپوشیدہ ہوتی ہیں جو اُسے ترقی یافتہ اور مہذب بناتی ہیں۔

بیسویں صدی کے وسط میں امریکی ماہر حیاتیات ’ایشلے مونٹیگو‘ نے بھی ثابت کیا تھا کہ سائنس کبھی بھی شکل و شباہت کی بنیاد پر قائم نسلی تصور کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ سائنسی لحاظ سے یہ سوچ غلط، غیر ضروری اور گمراہ کن ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ تمام انسان حیاتیاتی طور پر ایک جیسے ہیں اور جو ظاہری فرق ہمیں نظر آتا ہے وہ محض جغرافیائی اثرات،موسمی تفاوت، آب و ہوا اور گروہوں کے آپسی فاصلے کا نتیجہ ہے۔

ایشلے نے یونیسکو کی جانب سے نسلی امتیاز کے خاتمے کے لیے لکھی گئی رپورٹ کا مسودہ تیار کیا تھا جس نے نسلی نظریات کے خلاف سائنسی بنیادوں پر عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا تھا، حتیٰ کہ ہٹلر جیسا آمر کہ جس نے نسل کو اپنا مرکزی نظریہ بنایا تھا، وہ بھی اعتراف کرتا تھا کہ ’مجھے بخوبی علم ہے کہ سائنسی لحاظ سے نسل جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی، لیکن ایک سیاستدان کی حیثیت سے مجھے ایک ایسا تصور درکار ہے جو تاریخی بنیادوں پر قائم موجودہ نظام کو ختم کر سکے، اور ایک نیا، تاریخ سے منقطع نظام نافذ کیا جا سکے جسے فکری بنیاد فراہم کی جا سکے، اور اس مقصد کیلئے نسل کا تصور میرے لیے نہایت مفید ہے کیونکہ نسل کے نظریے کے ساتھ ہی نیشنل سوشلسٹ تحریک اپنی انقلابی سوچ کو جرمنی سے باہرلے جائے گی اور دنیا کو نئے سرے سے تشکیل دے گی۔‘ یہ بیان خود اس امر کا ثبوت ہے کہ نسل کا نظریہ ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر گھڑا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کرپٹو کونسل کا شاندار کارنامہ، مختصر وقت میں بڑی کامیابی حاصل کرلی

لہٰذا جن ظاہری بنیادوں پر قوموں کو ایک دوسرے سے الگ سمجھا گیا، وہ سراسر مصنوعی اور سطحی ثابت ہوئیں حتیٰ کہ جلد کی رنگت بھی۔ اگر لمحہ بھر کے لیے غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انسان نہ سفید ہے، نہ کالا اور نہ ہی سانولہ، بلکہ یہ انسانی جلد کی رنگت کے مختلف شیڈز ہیں، جو انسانیت کے کسی بھی دوسرے پہلو کو متاثر نہیں کرتے۔

بے شک نسل کا تصور جھوٹا ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اتنا گہرا کیوں ہے؟ اس کا جواب تاریخ کے سیاہ بابوں میں پوشیدہ ہے۔ انیسویں صدی میں یورپی طاقتوں نے جب دنیا پر قبضہ کیا تو غلامی اور نوآبادیاتی نظام کو جائز ٹھہرانے کے لیے نسلی نظریہ گھڑا گیا۔ افریقیوں، ایشیائیوں اور دیگر مقامی اقوام کو کمتر ظاہر کرکے ان پر ظلم و ستم، استحصال اور لوٹ مار کو ’تہذیب‘ کا نام دیا گیا۔

یورپی اقوام نے افریقہ، آسٹریلیا، ایشیا اور امریکا میں اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے وہاں کی مقامی قوموں کو ان کی ظاہری ساخت، خدوخال اور طاقت کی بنیاد پر تقسیم کرکے صرف وہاں کے طاقتور طبقات کو اپنے ساتھ ملایا تاکہ نو آبادیاتی قبضے، غلامی اور استحصال کو تادیر قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے ہندوستان کو بھی مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرکے کمزور کیا۔ وہاں کی طاقتور قوتوں کو اپنے ساتھ ملاکر مزے سے حکمرانی کی، اور پھر نام نہاد آزادی کے طور پر مقامی طاقتور طبقے کے ہاتھوں میں اقتدار دے کر وہاں سے رخصت ہو گئے۔

یہ ایک تاریخی سچ ہے کہ طاقتور طبقے ہمیشہ ایسے نظریات تراشتے ہیں جو ظلم کو جائز بنائیں اور نسل پرستی ان میں سب سے مؤثر ہتھیار ثابت ہوئی ہے۔ اس ضمن میں فرانسیسی فلسفی اور مفکر ’ژاں پال سارتر‘ کے بیان کردہ تصور Anti-Racist Racismکا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ جو نسل پرستی اور نوآبادیاتی نظام کے سخت مخالف تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کرپٹو کونسل کا شاندار کارنامہ، مختصر وقت میں بڑی کامیابی حاصل کرلی

’سارتر‘نے افریقیوں، عربوں اور دیگر مظلوم قوموں کی حمایت کی تھی لیکن ساتھ ہی ’نسل پرست رویوں کی ضد میں اٹھنے والی نئی نسل پرستی‘ کی بھی مخالفت کی تھی،کیونکہ جب نسل پرستی کا شکار کوئی قوم اس کے رد عمل میں خود کو برتر یا الگ قرار دیتی ہے تو وہ بھی اسی خطرناک راستے پر چل پڑتی ہے جس کے خلاف وہ کھڑی ہوئی تھی، جیسا کہ بلیک پاور تحریک اور اس کی ہم شکل تحریکیں۔

یہ بات قابلِ فہم ہے کہ ماضی میں جن قوموں کو ظلم، تعصب اور بدسلوکی کا سامنا رہا، انہوں نے اپنی شناخت کے گرد ایک حفاظتی خول قائم کرلیا لیکن جب یہی شناختیں سخت ہوئیں تو وہ خود نئے تعصب، نئی مذہبیت اور نئے انتقام کا جواز بن گئیں اور یوں اسی جھوٹے نسلی و مذہبی تصور کو دوام ملا، جو ساری خرابی کی بنیاد بنا۔

یہودی خود کو ’برگزیدہ قوم‘ کہہ کر دوسروں کو کم تر سمجھتے ہیں، ذات پات پر مبنی برہمنی متعصب نظام نے ہندوستان میں ہزاروں سال تک نچلی ذاتوں کو حقیر سمجھا اور یورپ میں سفید فام برتری کے نام پر افریقہ، امریکا کے ریڈ انڈینز، آسٹریلیا کی ایب اوریجنیز نسلیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑی گئیں۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: پاکستان کا خطے کی صورتحال پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کا فیصلہ

عربوں میں کچھ عناصر آج بھی خود کو اعلیٰ النسل سمجھ کر دوسروں پر برتری جتاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا بدل رہی ہے، مگر نسلی غرور، مذہبی تنگ نظری اور معاشرتی تعصب کے کالے پردوں میں لپٹی مکروہ ذہنیت ا ٓج بھی تاریک سرنگ میں پھنسی ہوئی ہے۔ رنگ، نسل اور خون کے جھوٹے غرور میں مبتلا نیلی رگوں والے یہودی، سفید فام یورپین اور ہندوستانی برہمن آج بھی اپنے آپ کو برتر سمجھتے ہیں۔ جو معاشرے چہرے کی سفیدی، گردن کی لالی، آنکھوں کی سبزی اور رگوں کا نیلاپن دیکھ کر انسانوں کی قدریں طے کرے، وہ خود انسانیت سے بے خبر ہیں۔

نسل پرستی اس وقت ختم ہوگی جب ہم سب قوم، قبیلوں اور مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسان کو دیکھنا شروع کر یں گے۔ برطانوی فلاسفر ’ انتھونی کلفورڈ گریلنگ‘ نسل پرستی پر لکھے مضمون کا اختتام جان ایف کینیڈی کے اس شاندار جملے سے کرتا ہے کہ ’قبرستانوں میں دفنائے گئے انسانوں کی قبروں کے کتبوں پر کہیں یہ نہیں لکھا ہوتا کہ یہاں گورا دفن ہے یا کالا۔‘

مارٹن لوتھر کنگ کا یہ جملہ کہ ’نسلی تعصب دم توڑ رہا ہے، سوال یہ ہے کہ نسل پرست لوگ اپنے جنازے کو کتنا مہنگا بنائیں گے؟۔ کیا مارٹن لوتھر صحیح کہہ رہا تھا؟ یا شاید اسے یہ غلط فہمی ہوئی تھی کہ نسل پرستی کا بھوت مر رہا ہے؟ یہ تو سچ میں آج بھی زندہ ہے اور خوب دھمالیں مار رہا ہے۔ ذہنی دُکھ، معاشرتی ناہمواری اور عالمی بے چینی کی صورت میں اس کے کفن دفن کے اخراجات ہم آج بھی مل کر چکا رہے ہیں۔ کیا ہم اسے کبھی دفنا پائیں گے؟

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے غلام عباس سیال 2004 سے آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ہیں۔ گومل یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کے بعد سڈنی یونیورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ منیجمنیٹ میں بھی ماسٹرز کر رکھا ہے۔ آئی ٹی کے بعد آسٹریلین کالج آف جرنلزم سے صحافت بھی پڑھ چکے ہیں ۔ کئی کتابوں کے مصنف اور کچھ تراجم بھی کر چکے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ

خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

مشرق وسطیٰ جنگ: خلیج فارس میں رکے جہاز پر کئی پاکستانی پھنس گئے، کراچی کا رہائشی بھی شامل

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان