پاکستان اور بھارت کے پارلیمانی وفود کی سرگرمیاں کیا ہیں؟

جمعہ 23 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

6  اور 7 مئی کی درمیانی شب شروع ہونے والی پاک بھارت فوجی کشیدگی میں بھارت کو جہاں فوجی محاذ پر شدید ہزیمت اٹھانی پڑی وہیں اسے سفارتی محاذ پر بھی شدید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے بھارت کے اندر شدید تنقیدی آوازیں اٹھ رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس کشیدگی میں ملک سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا ہے کیونکہ سوائے اسرائیل کے کسی بھی ملک نے بھارت کے مؤقف کی حمایت نہیں کی۔

دوسری طرف پاکستان کو جہاں ترکیہ، چین اور آذربائیجان کی جانب سے حمایت حاصل رہی وہیں دنیا کی بڑی طاقتوں نے بھی پاکستان کے مؤقف کی تائید کی۔

یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی بڑھتی سفارتی تنہائی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کا اعلان ہو یا پہلگام واقعے پر سلامتی کونسل کی قرارداد میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ لکھا جانا، یہ سب بھارت کی سفارتی ناکامیوں پر دلالت کرتے ہیں۔

بھارت اپنی سفارتی اور فوجی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اب سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے جس میں اس کا سب سے بڑا ہتھیار جھوٹ اور غلط بیانی تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے 18 مئی کو اپنی پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں پر مشتمل ایک سفارتی وفد تشکیل دیا جس کا مقصد دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر بھارت کے مؤقف کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔ لیکن بھارت ہی سے اس وفد کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے گئے ہیں کہ اس کی منظوری پارلیمنٹ سے نہیں لی گئی۔

بھارتی کثیر الجماعتی وفد کا دورہ جاپان

بھارتی پارلیمانی وفد کا ایک گروپ جس کی قیادت بھارتی سیاسی جماعت جنتا دل کے رکن سنجے کمار جھا کر رہے ہیں اس وقت جاپان کے دورے پر ہے جہاں اس نے جاپانی وزیرخارجہ اور جاپانی تھنک ٹینکس سے ملاقاتیں کی ہیں۔

پاکستانی وفد کی سرگرمیاں

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد جلد روانہ ہو گا۔ دفتر خارجہ ذرائع نے پاکستانی وفد کی روانگی کے بارے میں ابھی تک حتمی طور پر آگاہ نہیں کیا لیکن پاکستانی وفد کو اب تک دفتر خارجہ میں دو بریفنگز دی جا چکی ہیں۔

18 مئی کو وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اعلیٰ سفارتی وفد کی قیادت کے لیے نامزد کیا تھا۔

مزید پڑھیے: عالمی سطح پر بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیے پاکستانی وفد میں کون کون شامل ہے؟

8 افراد پر مشتمل یہ خصوصی سفارتی وفد لندن، پیرس، برسلز سمیت دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں جا کر بھارت کے  خلاف پاکستانی مؤقف کی ترجمانی کرے گا۔ اس وفد کا ایک حصہ روس بھی جائے گا جہاں یہ پاکستان کے مؤقف کو پہنچائے گا۔

وفد میں پاکستان پیپلز پارٹی سے بلاول بھٹو کے علاوہ سابق وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر اور امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمان بھی شامل ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن سے انجینیئر خرم دستگیر اور مصدق ملک جبکہ ایم کیو ایم سے فیصل سبزواری کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق سیکریٹری خارجہ اور نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی اور سابق سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی وفد کا حصہ ہیں۔

سابق بھارتی وزیرخارجہ نے بھارتی وفد کو ڈھکوسلا قرار دے دیا

بھارت کے معروف سیاستدان اور سابق وزیرخارجہ یشونت سنہا نے ایک بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’اگر راہول گاندھی پاکستانی ایجنٹ ہیں تو ان کو پارلیمانی وفد میں شامل کیوں کیا گیا‘۔

مزید پڑھیں: بھارتی وزیر خارجہ کی آمد پر واشنگٹن آزاد خالصتان کے نعروں سے گونج اٹھا

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو ہر چیز پر صرف سیاست کرنی آتی ہے۔ انہوں نے 51 رکنی کل جماعتی وفد کو محض ایک ڈھکوسلا قرار دیتے ہوئے ناکام سفارت کاری پر بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے متعدد پوسٹوں پر سفید پرچم لہرا کر امن کی بھیک مانگ لی

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟