اسرائیلی حملے میں کون کون سی اہم ایرانی شخصیات شہید ہوئیں؟

جمعہ 13 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعہ کی علی الصبح ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر صوبوں پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے وسیع پیمانے پر فضائی حملوں میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی شہید ہو گئے ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے کئی دیگر سینئر کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدان بھی شہید ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جوہری عدم پھیلاؤ کی خلاف ورزی پر ایران کیخلاف انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی قرارداد منظور

ان حملوں نے تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی مسلح افواج کے مرکزی کمان کے سربراہ میجر جنرل غلام علی رشید بھی ان حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔

شہید جوہری سائنسدانوں میں مہدی طہرانچی، فریدون عباسی، عبدالحمید منوچہر، احمدرضا ذوالفقاری، امیرحسین فقیہی اور مطلب علیزادہ شامل ہیں، جب کہ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل غلام علی راشد بھی شہید ہوگئے ہیں۔

تاہم، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف، میجر جنرل محمد باقری محفوظ ہیں اور اس وقت وار روم (جنگی کمانڈ مرکز) میں موجود ہیں۔ ان کے زخمی یا جاں بحق ہونے سے متعلق گردش کرتی افواہوں کو جھوٹا قرار دیا گیا ہے۔

یہ حملے مقامی وقت کے مطابق جمعہ کی صبح تقریباً 3 بجے شروع ہوئے، جب تہران میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس کے بعد ایران کے مختلف صوبوں میں پے در پے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں تہران اور دیگر شہری علاقوں میں تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جسے مبصرین نے اسرائیل کی ’اندھی جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نطنز، خرم‌آباد، خنداب اور دیگر مقامات پر اہم اہداف کو نشانہ بنایا۔

 ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے ایک سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران اس اسرائیلی دہشتگردی کا ’فیصلہ کن جواب‘ دینے کی تیاری کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے جوہری طاقت بننے کا خواب پورا نہیں ہونے دیں گے، صدر ٹرمپ

یہ اسرائیلی جارحیت اُس وقت کی گئی ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سمیت اعلیٰ عہدیدار مسلسل جنگی بیانات دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کی منظوری دی، حالانکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا عمل جاری تھا۔ متوقع چھٹے دور کی بات چیت، جو اتوار کو ہونا تھی، اب ملتوی کیے جانے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا