اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر حکومتِ پاکستان نے پاک ایران سرحد کو تاحکمِ ثانی بند کردیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد بلوچستان، خصوصاً سرحدی علاقوں میں ایندھن اور غذائی اشیا کی قلت کے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں، جبکہ ایران سے درآمد کی جانے والی روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کوئٹہ کے معروف تاجر مقدس رحمت نے بتایا کہ سرحد کی بندش سے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں ایرانی مصنوعات کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اُن کے مطابق ایران سے روزانہ کی بنیاد پر بیکری آئٹمز، بسکٹ، کیک اور مختلف مشروبات کی بڑی مقدار آتی تھی، لیکن اب یہ سلسلہ رکا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں نے دستیاب مال کو مہنگے داموں فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جو ایرانی بسکٹ یا مشروب پہلے 50 روپے میں دستیاب ہوتا تھا، اب وہ 70 سے 80 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاک ایران سرحد کو خوشحالی کی سرحد بنانے کا اعلان، مشترکہ اعلامیہ جاری
مقدس رحمت کے مطابق صرف خوراک نہیں بلکہ ایران سے درآمد ہونے والے شیمپو، صابن، ہیئر کنڈیشنر اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ان مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرحدی علاقوں کے مکینوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر سرحدی بندش کا سلسلہ مزید چند روز جاری رہا تو ان علاقوں میں شدید غذائی بحران جنم لے سکتا ہے۔ کئی علاقوں میں آٹا، گھی، خوردنی تیل اور سبزیاں ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حکومت نے سرحد تو بند کر دی، لیکن متبادل انتظامات نہیں کیے، جس سے مقامی آبادی شدید پریشانی کا شکار ہے۔
ادھر ایرانی پیٹرول کی بندش سے شہر میں ایندھن کی قلت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ ایرانی پٹرول جو پہلے سستا اور آسانی سے دستیاب تھا، اب نہ صرف ناپید ہے بلکہ عام پٹرول پمپس پر بھی یا تو دستیابی کم ہے یا قیمت زیادہ، جس کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ مہنگے پیٹرول کے سبب سبزیاں اور پھل جیسے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔














