ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے نتائج ناقابل پیشگوئی ہوں گے، روس کا انتباہ

جمعہ 20 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روس کی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی مداخلت سے گریز کرے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فضائی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور امریکا کے اس تنازعے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا، روسی صدر پیوٹن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایک بیان میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کے امکان کا عندیہ دیا، اور ساتھ ہی تہران سے ’بلا شرط ہتھیار ڈالنے‘ کا مطالبہ بھی کیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

امریکا فوجی مداخلت سے گریز کرے

روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے جمعرات کو کہا:

ہم خاص طور پر واشنگٹن کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اس صورتحال میں فوجی مداخلت سے گریز کرے۔ امریکا کی جانب سے ایسا کوئی قدم انتہائی خطرناک ہوگا جس کے نتائج سنگین اور ناقابلِ پیش گوئی ہوں گے۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور فوری جنگ بندی پر زور دیا۔

کریملن کے بیان کے مطابق دونوں رہنما اسرائیل کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

مسئلہ سیاسی و سفارتی طریقوں سے حل ہونا چاہیے

روسی صدر کے خارجہ امور کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ماسکو اور بیجنگ دونوں کا ماننا ہے کہ یہ تنازع صرف اور صرف سیاسی و سفارتی طریقوں سے حل ہونا چاہیے۔

روس، ایران کے ساتھ قریبی عسکری تعلقات رکھتا ہے، خاص طور پر یوکرین پر حملے کے بعد دونوں ممالک کے روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں، لیکن ماسکو اسرائیل کے ساتھ بھی متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

ایران سے رابطے میں ہوں، پیوٹن

پیوٹن نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ اسرائیل کی بمباری کے بعد ایران سے رابطے میں ہیں، مگر ایران نے روس سے کسی قسم کی فوجی مدد کی درخواست نہیں کی۔

ان کے بقول ہمارے ایرانی دوستوں نے اس حوالے سے ہم سے کچھ نہیں کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوری میں ایران کے ساتھ جو معاہدہ ہوا تھا، وہ دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ تعاون کی نوعیت کا ہے، جس کے تحت دونوں فریق ایک دوسرے کو فوجی مدد دینے کے پابند نہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای

جب پیوٹن سے پوچھا گیا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کر دیا گیا تو روس کا ردعمل کیا ہوگا، تو انہوں نے جواب دیا:

’میں ایسی کسی صورتحال پر بات کرنا بھی نہیں چاہتا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں