فرانسیسی صدر کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، جوہری پروگرام پر تحفظات اور بات چیت میں تیزی پر زور

ہفتہ 21 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر بات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورت حال اور ایران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں ایران-اسرائیل کشیدگی: دونوں ممالک کا کتنا جانی نقصان ہوا ہے؟

فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق صدر میکرون نے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ یورپ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا عمل تیز ہونا چاہیے تاکہ موجودہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔

میکرون نے واضح کیاکہ ایران کو یہ ضمانت دینی ہوگی کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس اور یورپی یونین ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہاکہ وہ پُرامید ہیں کہ بڑے خطرات اور ممکنہ جنگ سے بچنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ موجود ہے، جسے اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں اقوام متحدہ میں ایرانی اور اسرائیلی مندوبین کے مابین تند و تلخ جملوں کا تبادلہ

یہ رابطہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس میں بڑا سیاسی بحران 2 اراکین جنسی زیادتی کے الزامات کے بعد مستعفی

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات: بنگلہ دیش کی واحد آئل ریفائنری بند

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈراما انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا