مشرق وسطیٰ کا آسمان سُونا پڑگیا، بین الاقوامی پروازیں مہنگے متبادل روٹس پر منتقل

اتوار 22 جون 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد، مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود میں شدید اضطراب دیکھنے میں آ رہا ہے۔

فلائٹ ریڈار 24 (FlightRadar24) کے مطابق اتوار کو عالمی فضائی کمپنیوں نے ایران، عراق، شام اور اسرائیل کے اوپر سے گزرنے والے راستوں سے گریز کیا اور متبادل طویل اور مہنگے راستے اختیار کیے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران اسرائیل تصادم کے درمیان چین کہاں کھڑا ہے؟

فلائٹ ریڈار نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر آگاہ کیا ہے کہ:

’امریکی حملے کے بعد فضائی ٹریفک اسی طرز پر کام کر رہی ہے جیسے کہ پچھلے ہفتے عائد کی گئی نئی فضائی پابندیوں کے بعد کام جاری رکھے ہوئے تھی۔

متبادل راستے

رپورٹ کے مطابق فضائی کمپنیاں اب شمال کی طرف بحیرہ قزوین (Caspian Sea) کے ذریعے یا جنوب کی طرف مصر اور سعودی عرب کے ذریعے سفر کر رہی ہیں، جس سے ایندھن اور عملے کے اخراجات میں اضافہ اور پرواز کے وقت میں خاطر خواہ تاخیر ہو رہی ہے۔

جنگ زدہ فضائی زون: میزائل حملے عالمی ایوی ایشن کے لیے خطرہ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری میزائل اور ڈرون حملوں نے ہوابازی کی عالمی صنعت کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

13 جون کو اسرائیل کی ایران پر بمباری کے بعد سے متعدد ایئرلائنز نے متاثرہ ممالک کی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران-اسرائیل جنگ میں روس کی سفارتی ناکامی بے نقاب

البتہ چند ایمرجنسی اور نکاسی پروازیں، بالخصوص ہمسایہ ممالک سے، محدود طور پر جاری ہیں۔

اسرائیلی ایئرلائنز نے امدادی پروازیں بھی معطل کر دیں

اسرائیل کی 2 بڑی ایئرلائنز ایل آل (El Al) اور آرکیا (Arkia) نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام امدادی پروازیں معطل کر رہی ہیں۔ایل آل نے مزید کہا کہ تمام شیڈول پروازیں 27 جون تک منسوخ رہیں گی۔

ادھر اسرائیلی ایوی ایشن اتھارٹی نے فضائی حدود بند رکھنے کا اعلان کیا، تاہم مصر اور اردن کے ساتھ بری راستے کھلے رہیں گے۔

جاپان نے اپنے شہریوں کو ایران سے آذربائیجان منتقل کر دیا

جاپانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے 21 افراد کو ، جن میں 16 جاپانی شہری شامل تھے، ایران سے بری راستے سے آذربائیجان منتقل کر دیا ہے۔

یہ گزشتہ 3 دنوں میں دوسری بڑی منتقلی ہے، اور جاپانی حکام نے ایسی مزید پروازوں کی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے فوجی طیارہ روانہ کرنے کا فیصلہ

نیوزی لینڈ کی حکومت نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے ایک ہرکیولیس C-130J فوجی طیارہ روانہ کر رہی ہے، جو پیر کو آکلینڈ سے روانہ ہوگا۔

حکومت نے کہا کہ طیارے کو مشرق وسطیٰ پہنچنے میں کچھ دن لگیں گے۔ اس کے علاوہ تجارتی ایئرلائنز سے بھی رابطے جاری ہیں تاکہ نکاسی میں ان کی شمولیت ممکن بنائی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ، عوام کو جدید سہولتیں فراہم کریں گے، شزا فاطمہ

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں