پولینڈ میں دریافت ہونے والی 6 ہزار سال پرانی مورت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

جمعہ 4 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پولینڈ کے شہر پومیرانیا میں ایک کسان کی دریافت کردہ ایک سادہ سی مورتی نے ملکی آثارِ قدیمہ کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ صرف 12 سینٹی میٹر بلند، چونے کے پتھر سے تراشی گئی یہ مورت جسے ’کولوبرزگ کی وینس‘ کا نام دیا گیا ہے، نہ تو آنکھوں، ناک یا منہ جیسے نقوش رکھتی ہے اور نہ ہی کوئی بناوٹ، لیکن پھر بھی اسے ’صدی کی سب سے بڑی دریافت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ نایاب مورت 2022 میں اوبروٹی نامی گاؤں کے ایک کسان کو ملی، جو پارسیتا (Parsęta) دریا کے قریب واقع ہے۔ بعد ازاں یہ مورتی والڈیمر ساڈوسکی کے ہاتھوں میں پہنچی، جو کوئلوجرزگ میں ’میوزیم آف پولش آرمز‘ کے تحت کام کرنے والے ’پارسیتا ایکسپلوریشن گروپ‘ سے وابستہ ہیں۔ 2023 میں معروف ماہرِ آثارِ قدیمہ مارچن کرژپکوسکی اور اُن کی ٹیم نے اس مورتی کی سائنسی بنیادوں پر تصدیق کی اور اسے تاریخی لحاظ سے نایاب قرار دیا۔

مزید پڑھیں: ’القابل گاؤں‘ کھجوروں کا نخلستان اور مٹی کے مکانات کا مسکن

ماہرین کے مطابق یہ مورتی نیولیتھک (Neolithic) دور یعنی قریباً 6 ہزار سال قبل کی ہے اور غالب گمان یہی ہے کہ یہ مادری دیوی ’وینس‘ کی علامت ہے، جو قدیم تہذیبوں میں محبت اور زرخیزی کی دیوی مانی جاتی تھی۔ اگرچہ اس مجسمے میں چہرے کے خدوخال نہیں، لیکن نسوانی جسمانی خصوصیات نمایاں ہیں، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ممکن ہے اسے زرخیزی سے متعلق مذہبی یا روحانی رسومات میں استعمال کیا جاتا ہو۔

تحقیقی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ یہ شاید اُن پہلے کسانوں کا کام ہے جو مغربی پومیرانیا کی زرخیز زمینوں میں، خاص طور پر پارسیتا دریا کے آس پاس، آ کر آباد ہوئے تھے۔

یورپ میں ’وینس‘ کی مورتیوں کی کئی دریافتیں ہو چکی ہیں، جیسے ’وینس آف وِلنڈورف‘ (1908، آسٹریا) اور ’وینس آف ہوہلے فیلز‘ (2008، جرمنی)، لیکن ’کولوبرزگ وینس‘ اس لیے منفرد ہے کہ اسے مٹی کے بجائے چونے کے پتھر سے تراشا گیا، جو اس طرز کی مورتیوں میں کم ہی استعمال ہوا ہے۔ یہ اس علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی دریافت ہے جہاں اس سے قبل ایسی کوئی مثال نہیں ملی۔

مزید پڑھیں: دنیا میں پرندے کا سب سے بڑا مجسمہ کہاں نصب ہے؟

میوزیم آف پولش آرمز کے ڈائریکٹر اور زیرِآب آثارِ قدیمہ کے ماہر، الیگزینڈر اوستاش، نے اسے صدی کی دریافت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دریافت نہ صرف پولینڈ کی آثارِ قدیمہ میں اہم اضافہ ہے بلکہ کولوبرزگ کی تاریخ کے افق کو وسعت بھی دیتی ہے۔ مورتی اب ’میوزیم آف پولش آرمز‘ کے مستقل ذخیرے کا حصہ بن چکی ہے اور اسے عوام کے لیے نمائش میں رکھا جائے گا۔

اس وقت مارچن کرژپکوسکی کی سربراہی میں مختلف علوم سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل ایک بین الشعبہ ٹیم اس مورتی پر مزید تحقیق کر رہی ہے تاکہ نیولیتھک دور کی زندگی، ثقافت، رسومات اور انسانی عقائد پر مزید روشنی ڈالی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال: سیلاب کے بعد لوٹ مار، بہہ جانے والی بینک سیف سے لاکھوں روپے برآمد، 29 افراد گرفتار

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

روس نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ’آئی سی بی ایم‘ کا کامیاب تجربہ کرلیا

’کیا سنی دیول کو مسلمان کے کردار میں نہیں دیکھ سکتے؟‘، ’بٹوارا 1947‘ کی ناکامی پر شبانہ اعظمی حیران

لاہور میں طویل دھرنے کا عندیہ، ’اٹھانے کی کوشش کی تو اپنا شوق پورا کرلیں‘، حافظ نعیم

ویڈیو

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں