بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی فروخت کا شدید دباؤ دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار 783 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 132,619.72 پر پہنچ گیا، جو کہ 0.59 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ مندی بینکنگ، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش، اور ریفائنری جیسے اہم شعبوں میں فروخت کے باعث دیکھی گئی، نمایاں مندی کا شکار ہونے والے بڑے اسٹاکس میں اے آر ایل، این آر ایل، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، کے ایس ای 100 انڈیکس 134,000 کی سطح عبور کر گیا
واضح رہے کہ گزشتہ روز یعنی منگل کو اسٹاک مارکیٹ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی اور اختتام پر انڈیکس صرف 33 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 133,403.19 پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر، امریکی ڈالر بدھ کو دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈھائی ہفتے کی بلند ترین سطح کے قریب رہا، دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے تجارتی اقدامات کے اعلان کے بعد تانبے کی قیمت میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا۔
صدر ٹرمپ نے تانبے پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی، جبکہ سیمی کنڈکٹرز اور دوا سازی کی مصنوعات پر بھی عنقریب محصولات لگانے کا عندیہ دیا، جس سے وال اسٹریٹ دباؤ میں آ گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری حجم 26 ارب روپے سے زائد، اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟
ایشیا پیسفک کی اسٹاک مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا، جاپان کا نکی انڈیکس 0.2 فیصد نیچے آیا، آسٹریلیا 0.4 فیصد اور ہانگ کانگ 0.9 فیصد نیچے چلے گئے، دوسری جانب چین کے بلیو چپ اسٹاکس میں 0.2 فیصد اور جنوبی کوریا کے کوسپی میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں بھی معمولی 0.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جو ہفتے کے آغاز سے مجموعی طور پر 0.9 فیصد نیچے ہے۔












