اسرائیل اور شام کے درمیان کشیدگی ایک ’غلط فہمی‘ کا نتیجہ قرار، امریکا کی کشیدگی ختم کرنے کی اپیل

جمعرات 17 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل اور شام کے درمیان حالیہ کشیدگی پر امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تصادم کی نوعیت ایک ’غلط فہمی‘ پر مبنی معلوم ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں صورتحال سنگین ہوگئی۔

ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں زور دیا کہ شام کو اپنی فوجی سرگرمیاں کم کرنی چاہییں تاکہ تمام فریقین کشیدگی کم کرنے کی راہ اپنائیں اور علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:شامی فورسز کی دروزی اقلیت کیساتھ جنگ بندی، دمشق پر اسرائیلی حملہ، 3 جاں بحق، 34 زخمی

ترجمان ٹیمی بروس کا کہنا تھا کہ امریکا مسلسل اس بحران کی نگرانی کر رہا ہے اور شام کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں اپنی فوجی پیشرفت کو روکے تاکہ فریقین کے درمیان براہ راست تصادم سے بچا جا سکے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکا اسرائیل کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے اور دونوں طرف سے تحمل کا مظاہرہ ضروری ہے۔

اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ یہ تنازع غالباً ایک ’غلط فہمی‘ کی بنیاد پر شروع ہوا، جس میں اسرائیل نے جنوبی شام میں موجود شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن، دمشق اور تل ابیب کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے اور کوشش ہے کہ آنے والے چند گھنٹوں میں صورتحال کو مکمل طور پر کنٹرول میں لایا جا سکے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے گزشتہ روز دمشق میں شامی وزارت دفاع کے دفاتر اور فوجی ہیڈکوارٹرز پر فضائی حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں اور املاک کے نقصان کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی جنوبی شام میں موجود ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں اور شامی فوج کے ممکنہ خطرے کے خلاف تھی۔

دوسری جانب شام نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔ تاہم شام کے جنوب میں واقع دروز اکثریتی علاقے سوئیڈا میں کشیدگی میں کمی آئی ہے اور فریقین کے درمیان جنگ بندی کا عندیہ دیا گیا ہے۔

امریکا کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال مزید بگڑنے سے پہلے تمام فریقین کو فوری طور پر تحمل، مذاکرات اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے چاہئیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن ممکن ہو سکے۔

امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو واشنگٹن فریقین کے درمیان ثالثی کے لیے تیار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آم کے درخت نے بچا لیا‘، نیپال میں قیامت خیز سیلاب کے بیچ 24 سالہ مزدور کی معجزانہ زندگی

پیزا بنائے گا روبوٹ یا انسان؟ مہنگے تجربات کے بعد مشینی پیزا کا مستقبل سوالیہ نشان بن گیا

’آپریشن کردیا، پھر کہا خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں‘، کراچی کے اسپتال میں بچے کے غائب ہونے کا عجیب واقعہ

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری

لداخ میں احتجاج روکنے کے لیے بھارت کی بڑی فوجی پیش قدمی، پیرا ملٹری فورسز کی 12 کمپنیاں تعینات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ