مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینا اختیارات کا غلط استعمال ہے، پشاور ہائی کورٹ کا تحریری فیصلہ

جمعہ 18 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائی کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آئین کے تحت مخصوص نشستوں پر کامیاب امیدواروں سے حلف لینا لازم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مخصوص نشستوں کی تقسیم پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ: الیکشن کمیشن کو فہرست دوبارہ جاری کرنے کا حکم

میڈیا رپورٹ کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ اسپیکر اسمبلی کو حلف لینے کی ذمہ داری سونپی گئی، تاہم وہ مختلف وجوہات کی بنیاد پر اس میں ناکام رہے۔

 فیصلے میں مزید کہا گیا کہ حلف نہ لینا ایک ایسا عمل ہے جو منتخب نمائندوں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینا اختیارات کے غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیکر کو بارہا ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ارکان سے حلف لیں، تاہم اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے، لہٰذا اس بنیاد پر عدالت نے مسلم لیگ (ن) کی درخواست کو غیر مؤثر قرار دے کر خارج کر دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

منفرد ریٹیل اسٹور جو ایک شاندار لائبریری بھی ہے

اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا، سعد رفیق، حدیقہ کیانی سمیت صاف لوگوں کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، اقرار الحسن

آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات: حکومت نے کن شرائط پر آمادگی ظاہر کی؟

محسن نقوی کا دوسرا دورہ تہران: کیا پاکستان کی کاوشوں سے ایران امریکا مذاکرات بریک تھرو کے نزدیک پہنچ گئے؟

ایران سے بات چیت اور پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ امن معاہدے پر مؤقف

ویڈیو

منفرد ریٹیل اسٹور جو ایک شاندار لائبریری بھی ہے

اکیلا سب کچھ نہیں کرسکتا، سعد رفیق، حدیقہ کیانی سمیت صاف لوگوں کو پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں، اقرار الحسن

آئی ایم ایف بجٹ مذاکرات: حکومت نے کن شرائط پر آمادگی ظاہر کی؟

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟