مالیگاؤں بم دھماکہ کیس، بی جے پی رہنما پرگیہ ٹھاکر سمیت تمام ملزمان بری

جمعرات 31 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں 2008 کے بم دھماکے کے مقدمے میں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے 17 سال بعد بی جے پی رہنما پرگیہ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمان کو ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا۔

29 ستمبر 2008 کو رمضان المبارک کے دوران مالیگاؤں کے بھیکو چوک پر ہونے والے اس بم دھماکے میں 6 مسلمان شہید اور تقریباً 100 افراد زخمی ہوئے تھے۔

عدالت کا فیصلہ

خصوصی عدالت کے جج اے کے لاہوتی نے فیصلے میں کہا کہ استغاثہ بم دھماکے کا وقوعہ تو ثابت کرنے میں کامیاب رہا، لیکن یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ دھماکے کے لیے جو موٹر سائیکل استعمال ہوئی، وہ پرگیہ ٹھاکر کی ملکیت تھی، یا بم اس میں نصب کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے بھارتی مسلمانوں کو ’پاکستانی‘ کہنا گالی اور جرم نہیں، بھارتی سپریم کورٹ

عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی فرد کو صرف اخلاقی بنیادوں پر سزا نہیں دی جا سکتی۔

’معاشرے کے خلاف سنگین جرم ضرور ہوا، لیکن عدالت قانون اور ثبوت کی بنیاد پر فیصلے دیتی ہے، نہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔‘

 فیصلے کے اہم نکات

عدالت نے تسلیم کیا کہ آر ڈی ایکس دھماکے میں استعمال ہوا، مگر یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ اسے لیفٹیننٹ کرنل پروہت نے فراہم کیا تھا یا اس کے ذخیرے کا بندوبست کیا تھا۔

عدالت نے پرگیہ ٹھاکر کے بارے میں کہا کہ وہ پہلے ہی سنیاسی بن چکی تھیں اور مادی چیزوں سے لاتعلق ہو چکی تھیں۔

ابھینو بھارت نامی تنظیم، جس پر مقدمے میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام تھا، کو بھی بری کر دیا گیا کیونکہ عدالت کے مطابق کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا کہ یہ تنظیم دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھی۔

کیس کی تاریخ

ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کی تھیں، جس کی سربراہی ہیمنت کرکرے کر رہے تھے، جو 2008 کے ممبئی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
اے ٹی ایس نے پرگیہ ٹھاکر کو اکتوبر 2008 میں گرفتار کیا اور دعویٰ کیا کہ دھماکے میں استعمال کی گئی موٹر سائیکل انہی کی تھی۔ بعد میں کیس کی تفتیش قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو منتقل کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں بھارت میں مسلمانوں پر تشدد: پہلگام واقعے کی آڑ میں ہندو مسلم فساد پھیلانے کی کوشش

بری ہونے والے افراد

پرگیہ سنگھ ٹھاکر (بی جے پی کی موجودہ رکن پارلیمان)، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، میجر (ریٹائرڈ) رمیش اپادھیائے، سدھاکر چترویدی، اجے رہیرکر، سدھاکر دھر دویدی عرف شنکراچاریہ اور  سمیر کلکرنی شامل ہیں۔

عوامی و سیاسی ردعمل

فی الحال اس فیصلے پر متاثرہ خاندانوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے شدید مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ حلقوں نے عدالتی فیصلے پر سوالات بھی اٹھائے ہیں کہ 17 سال کی قانونی کارروائی کے بعد بھی انصاف ممکن نہ ہو سکا۔

یہ کیس بھارت میں مذہبی شدت پسندی اور عدالتی نظام کی ساکھ پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سینیئر اداکارہ روبینہ اشرف کا خواتین کے شوہر اور سسرالیوں کے لیے اہم پیغام

دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

حکومت سے مذاکرات ناکام، گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا آغاز کردیا

آئی ٹی ایف ماسٹرز ورلڈ ٹیم چیمپیئن شپ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی، سلور میڈل جیت لیا

میر رضا علی کیس: قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم مکمل، ڈی این اے نمونے لیبارٹری ارسال، مبینہ آڈیو بھی وائرل

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر