وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت کے نزدیک عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل ہوگیا ہے، حکومت عمران خان کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے سے متعلق ثبوت عدالت میں پیش کرے گی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کا معائنہ پمز اسپتال میں ہوا، صحتمند قرار دیے جانے پر واپس اڈیالا بھیجا، عطاتارڑ
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسپتال منتقلی کے حکم میں عدالت نے پاکستان تحریک انصاف پر بھی کچھ پابندیاں عائد کی تھیں، پی ٹی آئی نے عدالتی حکم کی کونسی پاسداری کی، یہ سب کے علم میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت کے حکم پر عمل تو کیا، اس بات سے کوئی انکاری نہیں، ڈاکٹروں کی ماہر ٹیم نے عمران خان کا چیک اپ کیا۔
رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عدالت عمران خان کو دوبارہ اسپتال لے جانے کا کہے گی تو لے جائیں گے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کی اسپتال منتقلی کے وقت سیکیورٹی سے متعلق رپورٹس تھیں، اسپتال کے باہر ایسی سرگرمی پائی گئی جس کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ بن سکتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ آخری لمحوں میں عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ میڈیکل ٹیم نے عمران خان کا چیک اپ کیا اور انہیں صحت مند قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان سے متعلق جو فیصلہ کیا، اس میں سیاست کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ توہین عدالت تو تب ہوتی کہ عمران خان کو اسپتال منتقل نہ کیا جاتا۔
مزید پڑھیں: حکومت کو عمران خان کی اسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ ماننا ہی ہوگا، قانونی ماہرین
واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل نہ کرنے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے، جس کی سماعت 16 ستمبر کو ہوگی۔














