روس سے تیل کی خریداری جاری رہے گی، امریکی دباؤ کے باوجود انڈیا کا دوٹوک مؤقف

ہفتہ 2 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کی جانب سے ماسکو سے تجارت کرنے والوں پر پابندیوں کی دھمکی کے باوجود بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ روس سے سستا خام تیل خریدنے کا سلسلہ جاری رہے گا، اور تیل کی درآمدات میں کسی قسم کی رکاوٹ کا کوئی امکان نہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق انڈین میڈیا میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ بھارتی ریفائنریز امریکی دباؤ کے پیش نظر روسی تیل کی خریداری بند کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دعویٰ:’سنا ہے بھارت اب روسی تیل نہیں خریدے گا ‘، بھارتی حکام کا اظہارِ لاعلمی

اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہاکہ اگر بھارت روسی تیل کی درآمد روک دیتا ہے تو یہ خوش آئند اقدام ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ میری معلومات کے مطابق انڈیا اب روس سے تیل نہیں خریدے گا، اگر ایسا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

تاہم خبر رساں ادارے اے این آئی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے روس سے خام تیل کی خریداری بند نہیں کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع نے واضح کیا کہ درآمدی فیصلے قیمت، معیار، لاجسٹکس اور مارکیٹ کی ضروریات جیسے معاشی عوامل کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک پر سخت اقتصادی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے روسی اسلحہ اور توانائی کی خریداری جاری رکھنے پر بھارت سمیت دیگر ممالک کی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو 8 اگست تک یوکرین میں جنگ ختم کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

ادھر روئٹرز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارتی ریفائنریز نے قیمتوں میں کمی اور پابندیوں کے خطرے کے پیش نظر روسی تیل کی خریداری وقتی طور پر معطل کردی ہے۔ تاہم ہفتے کے روز نیویارک ٹائمز نے دو اعلیٰ بھارتی حکام کے حوالے سے بتایا کہ مودی حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور تیل کمپنیوں کو خریداری روکنے کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔

بھارتی حکام نے وضاحت دی کہ روس کے ساتھ طویل مدتی تیل معاہدے موجود ہیں، جنہیں راتوں رات معطل کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ بھارتی ریفائنریز بین الاقوامی ضوابط کے مطابق کام کرتی ہیں اور روسی تیل کی خریداری پر امریکا یا یورپی یونین کی جانب سے براہِ راست کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی، بلکہ اسے جی سیون اور یورپی یونین کی مقرر کردہ قیمت کے ڈھانچے سے مشروط کیا گیا ہے، جس کا مقصد روس کی آمدنی کو محدود کرتے ہوئے عالمی تیل کی فراہمی کو برقرار رکھنا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی روسی تیل کی خریداری نہ صرف قانونی ہے بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے دائرے میں رہ کر کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیاکہ اگر بھارت اوپیک پلس ممالک کے علاوہ روس سے بھی یومیہ 58 لاکھ بیرل تیل نہ خریدتا تو مارچ 2022 میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 137 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر جاتیں۔

روس اس وقت بھارت کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو ملک کی مجموعی درآمدات کا قریباً 35 فیصد فراہم کرتا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق توانائی کے ایک بڑے صارف ملک ہونے کے ناطے انڈیا کو سب سے کم قیمت پر وسائل حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ اپنی عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جمعے کے روز بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہاکہ بھارت عالمی منڈی کی صورت حال، دستیاب مواقع اور موجودہ جغرافیائی سیاسی حالات کا جائزہ لے کر فیصلے کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دعویٰ:’سنا ہے بھارت اب روسی تیل نہیں خریدے گا ‘، بھارتی حکام کا اظہارِ لاعلمی

انہوں نے مزید کہاکہ روس کے ساتھ بھارت کی شراکت داری وقت کی آزمائش پر پوری اتری ہے اور اسے مستقبل میں بھی برقرار رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا