عراقی شہر اربیل میں ’گدھے کے کبابوں‘ کا اعلان، ریسٹورنٹ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گیا

منگل 5 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عراق کے خودمختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل میں ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ نے حال ہی میں یہ دعویٰ کر کے سب کو حیران کر دیا کہ وہ ایسی ڈش پیش کر رہا ہے جو اس سے قبل کسی مقامی مینو میں نہیں دیکھی گئی — گرل شدہ گدھے کا گوشت۔

خلیجی اخبار’ گلف نیوز‘ کے مطابق یہ دعویٰ ایک عراقی انفلوئنسر کی شیئر کی گئی ویڈیو کے بعد وائرل ہوا، جس میں وہ اور اس کے 2 ساتھی اس ریسٹورنٹ میں کھانے گئے۔ انہوں نے کباب اور گرل گوشت کھایا اور اسے ‘اب تک کا سب سے مزیدار گوشت‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیے ہرسال قریباً 60 لاکھ گدھے کس دوا کے لیے ذبح کیے جاتے ہیں؟

ایک ساتھی نے شک و حیرت کے ساتھ ریسٹورنٹ کے مالک سے پوچھا:
’کیا یہ واقعی گدھے کا گوشت ہے؟‘
مالک نے فوراً جواب دیا:
’یہ 100 فیصد کرد گدھے کا گوشت ہے!‘

ریسٹورنٹ کی سجاوٹ بھی اس دعوے کو تقویت دیتی نظر آئی۔ دیواروں پر گدھوں کی تصویریں، خاکے اور پینٹنگز آویزاں تھیں، جو اس منفرد تصور کو مزید پُر مزاح اور قابل دید بناتی تھیں۔

لیکن پھر سچ سامنے آ گیا…

جلد ہی انکشاف ہوا کہ یہ سب کچھ دراصل ایک مارکیٹنگ چال تھی۔
ریسٹورنٹ کے مالک نے اعتراف کیا کہ وہ اصل میں گدھے کا گوشت پیش نہیں کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب عوام کی توجہ حاصل کرنے اور دکان پر رش بڑھانے کے لیے کیا گیا — اور اس حکمت عملی نے کام کر دکھایا۔
ویڈیو کو ہزاروں مرتبہ شیئر کیا گیا، اور عوام نے اسے تجسس، مزاح یا حیرت کے ساتھ سراہا۔

یہ بھی پڑھیے گدھے کا گوشت برآمد: ’اسلام آباد والو بتاؤ ذائقہ کیسا تھا‘

واضح رہے کہ اگرچہ بعض ممالک مثلاً چین اور وسطی ایشیا کے  بعض علاقوں میں گدھے کا گوشت کھایا جاتا ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں اسے ایک ثقافتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
ریسٹورنٹ کے مالک نے اسی تصور کا فائدہ اٹھایا، چونکانے اور ہنسانے کے ملے جلے خیال کے تحت ایک زبردست آن لائن مہم شروع کر دی۔

سوشل میڈیا پر اس مارکیٹنگ چال پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض لوگوں نے اسے تخلیقی اور دلچسپ قرار دیا، اور بعض نے اسے دھوکہ دہی قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع، آئی ایم ایف

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا کرسکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا