راولپنڈی جرگہ قتل کیس: ملزم عصمت اللہ خان کی فائرنگ کی نئی ویڈیو سامنے آگئی

جمعرات 7 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

راولپنڈی میں 19 سالہ شادی شدہ خاتون سدرہ عرب کے بہیمانہ قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں اسے سرعام کلاشنکوف سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ عصمت اللہ گلی میں کھڑا ہو کر فائرنگ کر رہا ہے جبکہ اسی دوران ایک کمسن بچہ خوفزدہ ہو کر کھمبے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: جرگہ کے حکم پر سدرہ عرب کے قتل میں بڑی پیش رفت، ویڈیو بھی سامنے آگئی

پولیس حکام کے مطابق عصمت اللہ خان سے دوران تفتیش ایک کلاشنکوف بھی برآمد کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے اور عوامی مقام پر فائرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

مزید برآں، ملزم عصمت اللہ 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔ تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے سدرہ عرب کو ایک جرگے کے فیصلے کے تحت قتل کیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘