عمرہ کروں یا کربلا جاؤں طعنے دیے جاتے ہیں، صنم ماروی برہم

بدھ 13 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف لوک اور صوفی گلوکارہ صنم ماروی نے انکشاف کیا ہے کہ جب وہ عمرے کی ادائیگی یا کربلا معلیٰ کی زیارت کے لیے جاتی ہیں تو انہیں گلوکاری کے پیشے کی بنیاد پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صنم ماروی حال ہی میں سما ٹی وی کے مارننگ شو صبح کا سما میں مہمان بنیں، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر، ذاتی زندگی اور تنقید کے پہلوؤں پر کھل کر بات کی۔

پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ موسیقی سے وابستگی کے باعث سوشل میڈیا پر انہیں بارہا ٹرول کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب وہ مذہبی عبادات انجام دیتی ہیں۔

صنم ماروی کا کہنا تھا کہ سب سے برا مجھے اس وقت لگتا ہے جب میں عمرہ کرنے یا زیارات پر جاؤں تو لوگ تبصرے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اچھا اب آپ بھی عمرہ کریں گی اور پھر جب واپس آ کر اپنا گلوکاری کا کام کرو تو کہتے ہیں آپ تو ابھی زیارات یا عمرہ کر کے آئی ہیں تو یہ کام ہیں کر رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگ ٹرول کرتے ہیں کہ سارا سال گانے گاتی ہیں اور اب یہ حاجن بننے کے لیے چلی گئی ہے یا زیارات کے لیے چلی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم لوگ انسان نہیں ہیں۔ ہمارا دل نہیں کرتا کہ ہم زیارات یا عمرہ کے لیے جائیں۔ گلوکاری تو ہمارا کام ہے وہ ہم نے کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

شہد کی مکھیوں کے چھتے سے متاثر جدید سولر پینل ڈیزائن تیار، بجلی کی پیداوار میں اضافے کا دعویٰ

پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے

پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت، مکمل حمایت کا اعادہ

ایران کو بڑی حد تک ’پتھر کے دور‘ میں پہنچا دیا، ٹرمپ کا دعویٰ

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے