زخمی ہاتھی نے گاؤں میں مچائی دھوم، دکانیں اور سڑکیں متاثر

جمعہ 15 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسام کے ایک گاؤں میں زخمی نر ہاتھی، قریبی امچانگ ریزرو فاریسٹ میں واپس جانے سے قاصر، دن میں کم از کم دو مرتبہ نظر آ رہا ہے، کبھی ٹریفک روک کر اور کبھی دکانوں میں گھس کر کھانے پینے کی چیزیں تلاش کرتا ہے۔

مقامی افراد نے اپنے گھروں اور دکانوں کے گرد اسٹیل کی باڑ اور خاردار تار لگائی ہے تاکہ جانور سے محفوظ رہ سکیں، تاہم وہ ہاتھی کو کھانا اور پانی بھی فراہم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: تھائی لینڈ: دیوہیکل ہاتھی کا سپر اسٹور پر دھاوا، کیک انڈے کھا کر چلتا بنا

جنگلی حیات کے حکام کا کہنا ہے کہ ہاتھی کو دوبارہ جھنڈ میں شامل ہونے کی کوشش کے دوران دوسرے ہاتھیوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

آسام، جو 5 ہزار سے زائد جنگلی ایشیائی ہاتھیوں کا مسکن ہے، میں حالیہ برسوں میں انسان اور ہاتھی کے درمیان ٹکراؤ میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ شہروں اور کھیتوں کی توسیع نے جنگلاتی رہائش گاہیں کم کر دی ہیں۔

ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگلات کے درمیان محفوظ راستے (کوریڈورز) بنانا ضروری ہے تاکہ ہاتھی بغیر رکاوٹ ایک علاقے سے دوسرے میں منتقل ہو سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

بھارتی کرکٹر ارشدیپ سنگھ نے اداکارہ سمرین کور کے ساتھ تعلقات کا اعلان کر دیا، پیغام میں کیا لکھا؟

سیاسی جماعتیں ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں، عوام کو آزادانہ حقِ رائے دہی کا موقع ملنا چاہیے، شیری رحمان

میرپور ڈویژن میں پولنگ پرامن ماحول میں جاری: عوام بھرپور انداز میں ووٹ ڈالیں، چیف الیکشن کمشنر

صدر، وزیراعظم اور وفاقی وزرا کو ملے تحائف توشہ خانے میں جمع، تفصیلات جاری

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی اننگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان