ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش سے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا ہے کہ شہر قائد میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش نے نظام زندگی مفلوج کر دیا، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔ گورنر سندھ نے بارش کے دوران مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو یقین دلایا کہ مشکل وقت میں وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون بارشوں کی وجہ سے کراچی سے روانہ ریل گاڑیاں تاخیر کا شکار
فاروق استار نے کہا کہ میئر کراچی کہہ رہے ہیں کہ شہر کے نالے صرف 40 ملی میٹر پانی کی نکاسی کی گنجائش رکھتے ہیں، یہ تمام مسائل کراچی سے کچرہ وقت پر نہ اٹھائے جانے کے باعث ہے۔
سینیئر سیاستدان فاروق ستار نے کہا کہ یہ صرف میئر کراچی کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ پچھلے 17 سالوں کی لوٹ مار غیر معمولی بارش کے دوران سامنے آگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کراچی کا کچرا وقت پر اٹھا لیا جائے تو 200 ملی میٹر نہیں بلکہ 400 ملی میٹر بارش بھی ہوجائے تو نالے دو گھنٹے میں پانی نکال سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں بارش رکنے کے باوجود فلائٹس آپریشن بحال کیوں نہ ہوسکا؟
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کچرا سڑکوں اور نالوں سے نہیں ہٹے گا، بارش کا پانی جمع ہی ہوگا۔ ’حکمرانوں کے دماغوں میں بھی کچرا ہے، اس لیے مسائل بڑھ رہے ہیں۔‘
فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرے کہ کچرا وقت پر نہیں اٹھایا گیا اور اسی وجہ سے نالے بلاک ہوئے، ورنہ یہ پانی ندیوں کے ذریعے سمندر تک جا سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب وسیم اختر میئر تھے تو 50 کروڑ روپے نالوں کی صفائی پر دیے جاتے تھے، لیکن اب تو حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور وسائل بھی اسی کے پاس ہیں، پھر بھی نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟
یہ بھی پڑھیں: حکومت سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کام کررہی ہے، مراد علی شاہ
ان کا کہنا تھا کہ حکمران چھپنے کے بجائے سامنے آئیں اور ایم کیو ایم و پیپلز پارٹی کے دو دو سابق میئرز ٹی وی پر مناظرہ کرلیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ شہر کیسے چلایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی میں پہلے 175 سگنلز ہوتے تھے، آج صرف 69 رہ گئے ہیں، باقی 106 کہاں گئے؟
فاروق ستار نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں اب درست ثابت ہو رہی ہیں۔ ’اللہ کرے کہ اگلا اسپیل نہ ہو، کیونکہ جتنی بارش ہوگئی ہے وہی حکومت سے نہیں سنبھالی جارہی اور پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگلے اسپیل کے لیے تیار ہیں۔‘













