نفرت انگیز تقریر کا معاملہ: اینکر پرسن عمر عادل کو سائبر کرائم ایجنسی کا دوسرا نوٹس

جمعرات 21 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقریر کے معاملے پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اینکر پرسن عمر عادل کے خلاف کارروائی تیز کردی ہے اور انہیں دوسرا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

جاری کیے گئے نوٹس کے مطابق ملزم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام ریکارڈ کے ہمراہ نیشنل کرائم ایجنسی لاہور کے دفتر میں پیش ہوں۔

خط کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ عمر عادل کو 21 اگست کو تمام شواہد کے ساتھ حاضر ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

ایجنسی کے مطابق اس سے قبل بھی ملزم کو پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کیے گئے تھے لیکن عمر عادل سائبر کرائم ایجنسی کے نوٹس کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس بار بھی وہ دوسرے نوٹس کے باوجود حاضر نہ ہوئے تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ کارروائی طلعت محمد کی جانب سے دائر درخواست پر شروع کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمر عادل نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقریر کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالیاتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ، عوام کو جدید سہولتیں فراہم کریں گے، شزا فاطمہ

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش، ہوشربا انکشافات، ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش

’وہ اپنا ذہنی توازن کھو رہے ہیں‘، جھیل کا نام تبدیلی کرنے کے فیصلے پر امریکیوں کی ٹرمپ پر تنقید

عمران خان کے بچوں کی طرح غزہ کے قیدیوں کے بچوں کو بھی بولنے کا موقع دیں، خواجہ آصف کا اسکائی نیوز کو جواب

ویڈیو

میڈیا طلبہ کی عملی تربیت، وی نیوز میں انٹرن شپ مکمل ہونے پر تقریب

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں