یوکرین نے اپنے یوم آزادی کے موقع پر روس پر ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کی جس کے نتیجے میں ایک جوہری بجلی گھر میں آگ لگ گئی۔
یومِ آزادی کے موقع پر صدر زیلنسکی نے قوم سے خطاب میں کہا کہ یہ ہے یوکرین کا جواب جب اس کی امن کی پکار کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ آج امریکہ اور یورپ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ یوکرین نے مکمل فتح تو حاصل نہیں کی لیکن شکست بھی ہرگز نہیں کھائے گا۔ یوکرین اپنی آزادی کو یقینی بنا چکا ہے۔ یوکرین شکار نہیں بلکہ ایک لڑاکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: یوکرینی ڈرون حملے کے بعد روسی جوہری پلانٹ میں آگ بھڑک اُٹھی
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے کیف میں تقریبات میں شرکت کی اور یوکرین کے لیے منصفانہ اور دیرپا امن کی اپیل کی، جبکہ برطانیہ کے بادشاہ چارلس، چین کے صدر شی جن پنگ، پوپ فرانسس اور سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھی مبارکبادی پیغامات بھیجے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات کرانے کی کوششوں کے باوجود جمعہ کو ماسکو نے فوری ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا جس سے سفارتی پیش رفت رک گئی۔
ساڑھے 3 سال سے جاری جنگ میں اب تک کئی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم روس نے حالیہ ہفتوں میں مشرقی ڈونیسک میں 2 دیہات پر قبضے سمیت کچھ پیش رفت کی ہے۔

یوکرین نے جواب میں روسی علاقوں پر ڈرون حملے کیے جن میں ایک ڈرون کو مغربی روس کے کرسک نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب مار گرایا گیا جو پھٹنے سے آگ بھڑک اُٹھی۔ پلانٹ کے مطابق آگ بجھا دی گئی اور کوئی جانی نقصان یا تابکاری میں اضافہ نہیں ہوا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ جوہری پلانٹس کے قریب جنگ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
روسی حکام نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی ڈرون شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ اور خلیج فن لینڈ کے ساحلی بندرگاہ اوست-لوگا پر بھی مار گرائے گئے جہاں ایندھن کے ٹرمینل میں آگ لگ گئی۔
یہ بھی پڑھیے: پینٹاگون نے یوکرین کو روسی سرزمین پر حملوں سے روک دیا، وال اسٹریٹ جرنل
یوکرین کی کمزور اور چھوٹی فوج روسی حملوں کے جواب میں ڈرونز پر انحصار کر رہی ہے، خاص طور پر تیل کے ڈھانچوں کو نشانہ بنا کر ماسکو کی آمدنی کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ روس میں ایندھن کی قیمتیں ان حملوں کے بعد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
دوسری جانب روس نے یوکرین پر بیلسٹک میزائل اور 72 ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز سے حملہ کیا، یوکرینی فضائیہ کے مطابق ان میں سے 48 کو مار گرایا گیا۔ مشرقی علاقے ڈنیپروپیٹروسک میں ایک روسی ڈرون حملے سے 47 سالہ خاتون ہلاک ہوگئیں۔














