یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات امن کے لیے سب سے مؤثر راستہ ہے۔ یومِ آزادی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوکرین مظلوم نہیں بلکہ ایک لڑاکا ہے اور جنگ کے بعد ملک میں غیر ملکی افواج کی موجودگی ضروری ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین-روس سربراہی اجلاس کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود، امن کی امیدوں کو دھچکا اُس وقت لگا جب روس نے جمعہ کے روز صدر پیوٹن اور زیلنسکی کی فوری ملاقات کو مسترد کر دیا۔ تاہم صدر زیلنسکی نے کہا کہ رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا فارمیٹ سب سے مؤثر طریقہ ہے، انہوں نے صدر پیوٹن کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کا مطالبہ دہرایا۔
یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین علاقائی تنازع: زیلنسکی، پیوٹن سے براہ راست مذاکرات کے لیے تیار
صدر زیلنسکی نے امریکی نمائندہ کیتھ کیلوگ کو ’آرڈر آف میرٹ‘ سے نوازا اور عالمی رہنماؤں، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ، شی جن پنگ اور میکرون شامل ہیں، کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر یوکرین اور روس نے 146 قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا، جن میں 2 یوکرینی صحافی شامل تھے۔
روس نے دعویٰ کیا کہ یوکرینی ڈرونز کو دور دراز علاقوں میں بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں سینٹ پیٹرز برگ اور فن لینڈ کی خلیج پر واقع اوست-لوگا کی بندرگاہ شامل ہے، جہاں ایندھن کے ٹرمینل میں آگ بھڑک اٹھی۔
مزید پڑھیں:پینٹاگون نے یوکرین کو روسی سرزمین پر حملوں سے روک دیا، وال اسٹریٹ جرنل
ادھر یوکرین نے کہا کہ روس نے ایک بیلسٹک میزائل اور 72 ایرانی ساختہ ’شاہد‘ ڈرونز سے حملہ کیا، جن میں سے 48 کو مار گرایا گیا، ڈنیپروپیٹروسک علاقے میں ایک روسی ڈرون حملے میں 47 سالہ خاتون ہلاک ہو گئیں۔
فوجی کمانڈر اولیکساندر سرسکی کے مطابق یوکرین نے ڈونیٹسک کے 3 دیہات واپس لے لیے ہیں جبکہ روس نے بھی کچھ نئی کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے۔ یومِ آزادی پر یوکرین کے ڈرون حملوں سے روس کے کورسک جوہری پلانٹ اور ایندھن ٹرمینل میں آگ لگی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں:یوکرین کو فضائی مدد دیں گے، فوج نہیں بھیجیں گے، ٹرمپ کا اعلان
ادھر ناروے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 7 ارب کرونر فراہم کرے گا تاکہ جرمنی کے ساتھ مل کر یوکرین کو 2 امریکی پیٹریاٹ سسٹمز فراہم کیے جا سکیں۔ اس وقت روس یوکرین کے 5ویں حصے پر قابض ہے اور جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔














