پرتگالی صدر نے یوکرین تنازع میں صدر ٹرمپ کو ’روس کا ایجنٹ‘ قرار دیدیا

جمعہ 29 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پرتگال کے صدر مارسيلو ریبیلو ڈی سوزا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین جنگ میں غیر جانبدار ثالث کا ڈھونگ رچا رہے ہیں، جبکہ درحقیقت ماسکو کے مفادات کی خدمت کرتے ہوئے’روس کے ایجنٹ‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ سے خوفزدہ امریکی، یورپ میں زندگی گزارنے کے خواہاں

سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی سمر یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے پرتگالی صدر نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پیش رو کی یوکرین کے لیے غیر مشروط حمایت کی پالیسی سے انحراف کیا ہے۔

ان کے مطابق صدر ٹرمپ ثالث کم اور ایسے ’منصف‘ زیادہ ہیں جو صرف ایک فریق سے مذاکرات کرتا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن میں حالیہ مذاکرات میں یوکرین اوراس کے یورپی اتحادیوں کو شامل ہونے کے لیے ’راستہ بنانا‘ پڑا۔

صدر ریبیلو ڈی سوزا کے بیانات نے ایک بار پھر اُن الزامات کی بازگشت پیدا کی ہے، جو پہلی بار 2016 میں صدر ٹرمپ پر روس سے گٹھ جوڑ کے حوالے سے عائد کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں:یورپی یونین بلبلا اٹھی، کیا ٹرمپ ٹیرف امریکا کے گلے پڑجائیگا؟

یہ معاملہ ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران موضوعِ بحث رہا، حالانکہ 2019 کی میولر رپورٹ میں کوئی ثبوت نہ ملا اور 2023 کی ڈرہم رپورٹ نے بھی اسے زیادہ تر سیاسی آپریشن قرار دیا۔

صدر ٹرمپ اس معاملے کو ’امریکی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل‘ قرار دے چکے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ ان کی صدارت کو سبوتاژ کرنے کے لیے گھڑا گیا تھا۔

رواں برس جنوری میں دوبارہ منصب سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے خود کو یوکرین تنازع میں ’غیر جانبدار ثالث‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا سمیت یورپی ممالک میں ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کے خلاف مظاہرے، لاکھوں افراد سڑکوں پر

وہ باری باری ماسکو اور کیف دونوں کو جمود کا ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں۔ کبھی انہوں نے روس کو ’بھاری پابندیوں‘ کی دھمکیاں دیں اور کبھی یوکرین کو ’لچک نہ دکھانے‘ اور ’امن کے لیے تیار نہ ہونے‘ کا موردِ الزام ٹھہرایا۔

اس ماہ کے آغاز میں انہوں نے صدر ولادیمیرپیوٹن پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے روس کے تجارتی شراکت داروں پر ثانوی محصولات عائد کرنے کی دھمکی بھی دی، جس کا امکان اب بھی موجود ہے۔

تاہم پرتگالی صدر کے مطابق یورپی یونین نے توعملی طور پر روس پر نئی پابندیاں عائد کیں، لیکن واشنگٹن نے صرف زبانی دھمکیوں پر اکتفا کیا جس کا فائدہ ماسکو کو میدانِ جنگ میں ہوا۔

مزید پڑھیں: یوکرین کو فضائی مدد دیں گے، فوج نہیں بھیجیں گے، ٹرمپ کا اعلان

صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کے سب ذمہ دار ہیں اور یہ کہ ’یہ ان کی جنگ نہیں‘۔

انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں امریکی پالیسی کے ضمن میں انتہائی اہم فیصلہ کیا جائے گا، بشرطیکہ ماسکو اور کیف حقیقی امن مذاکرات میں شریک ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں